اس لئے کہ انہوں نے خواہشوں سے اُنس پکڑ لیا اور اپنی رعیت اور دین کو فراموش کردیا۔ اورپوری خبر گیری نہیں کرتے۔بیت المال کو باپ دادوں سے وراثت میں آیاہوا مال سمجھتے ہیں۔ اور رعایا پر اُسے خرچ نہیں کرتے جیسے کہ پرہیزگاری کی شرط ہے۔ اور گمان کرتے ہیں کہ ان سے پُرسش نہ ہوگی اور خدا کی طرف لوٹنا نہیں ہو گا سو ان کی دولت کا وقت خواب پریشان کی طرح گذرجاتا ہے۔یا اُس سایہ کی طرح جسے تاریکی دور کردیتی ہے۔اگر تم ان کے فعلوں پر اطلاع پاؤ تو تمہارے رونگٹے کھڑے ہو جائیں اور حیرت تم پر غالب آجائے۔سو غور کرو کیا یہ لوگ دین کو پختہ کرتے اور اس کے مددگار ہیں۔کیا یہ لوگ گمراہوں کو راہ بتاتے
اور اندھوں کا علاج کرتے ہیں۔نہیں نہیں بلکہ ان کے اغراض اور مقاصد اور
ہی ہیں جنہیں صبح اور شام پورے کرتے ہیں۔انہیں شریعت کے احکام سے نسبت
ہی کیا بلکہ وہ تو چاہتے ہیں کہ اس کی قید سے نکل کر پوری بے قیدی سے زندگی بسر کریں۔
اور خلفائے صادقین کی سی قوت عزیمت ان میں کہاں اور صالح پرہیزگاروں کاسا
فإنہم بسأوا بالشہوات۔ ونسوا رعایاہم ودینہم وما أدّوا حق التکفّل والمراعات۔ یحسبون بیت المال کطارف أو تالد ورثوہ من الآباء ۔ ولا یُنفقون الأموال علی مصارفہا کما ہو شرط الاتّقاء۔ ویظنّون کأنہم لا یُسألون۔ وإلی اللّٰہ لا یرجعون۔ فیذہب وقت دولتہم کأضغاث الأحلام۔ والفیء المنتسخ من الظلام۔ ولو اطّلعتَ علی أفعالہم لاقشعرّت منک الجلدۃ۔ واستولت علیک الحیرۃ۔ ففکروا۔ أہؤلاء یشیّدون الدین ویقومون لہ کالناصرین؟ أہؤلاء یہدون الضالّین۔ ویعالجون العمین؟ کلابل لہم أغراض دون ذالک فہم یعملون بہا مصبحین وممسین۔ ما لہم و
لأحکام الشریعۃ۔ بل یریدون أن یخرجوا من ربقتہاویعیشوا بالحریّۃ۔ وأین لہم کالخلفاء الصادقین قوۃ العزیمۃ وکالأتقیاء