اور ہر روز تنزل اور کمی میں ہیں اس لئے کہ انہوں نے آسمان کے پروردگار کو ناراض کیا اور جوخدمت اُن کے سپرد ہوئی تھی اس کا کوئی حق ادانہیں کیا۔کیا تم دعویٰ کرتے ہو کہ وہ اسلام کے خلیفے ہیں۔ایسا نہیں بلکہ وہ زمین کی طرف جھک گئے ہیں اور پوری تقویٰ سے انہیں کہاں حصہ ملاہے۔اس لئے ہر ایک سے جو ان کی مخالفت کے لئے اٹھ کھڑا ہو شکست کھاتے ہیں اور باوجود کثرت لشکروں اور دولت اور شوکت کے بھاگ نکلتے ہیں۔اور یہ سب اثر ہے
اس *** کا جوآسمان سے اُن پر برستی ہے اس لئے کہ انہوں نے نفس کی خواہشوں
کو خدا پر مقدم کر لیا۔ اور ناچیز دنیا کی مصلحتوں کو اللہ پر اختیار کرلیا۔ اور
دنیا کی فانی لہو و لعب اور لذتوں میں سخت حریص ہوگئے اور ساتھ اس کے
خود بینی اور گھمنڈاور خود نمائی کے ناپاک عیب میں اسیر ہیں۔دین میں سُست اور
ہار کھائے ہوئے اور گندی خواہشوں میں چست چالاک ہیں۔سو ایک پست ہمت
کو بزرگی کیونکر دی جائے اور ایک 3 کو فضیلت اور مرتبہ کیونکر مرحمت ہو۔
وتراہم کل یوم فی تنزّل ومنقصۃ۔ فإنہم أسخطوا ربّ السماء ۔ وفُوِّضَ إلیہم خدمۃ فما أدّوہا حق الأداء ۔ أتزعمون أنہم
خلفاء الإسلام؟ کلا۔ بل ہم أخلدوا إلی الأرض وأنّی لہم
حظّ من التقوی التّام۔ولذالک ینہزمون من کل من نہض
للمخالفۃ۔ ویولّون الدّبر مع کثرۃ الجند والدولۃ والشوکۃ۔ وما ہذا إلا أثر سُخط الذی نزل علیہم من السماء ۔ بما آثروا شہوات النفس علی حضرۃ الکبریاء ۔ وبما قدّموا علی اللّٰہ مصالح الدنیا الدنیّۃ۔ وکانوا عظیم النہمۃ فی لذّاتہا وملاہیہا الفانیۃ۔ ومع
ذالک کانوا أُساری فی ذمیمۃ النخوۃ والعجب والریاء ۔ الکسالی فی الدین والفاتکین فی سبل الأہواء ۔ فکیف یُعطَی لسقط
جُلّی ومکرمۃ؟ وکیف یوہب لفُضلۃٍ فضیلۃ ومرتبۃ۔