وہ فانی لذتوں کے حاصل کرنے کے لئے خزانے خرچ کر ڈالتے ہیں۔اور وہ شرابیں پیتے ہیں نہروں کے کناروں اور بہتے پانیوں اور بلند درختوں اور پھل دار درختوں اور شگوفوں کے پاس اعلیٰ درجہ کے فرشوں پر بیٹھ کر اور کوئی خبر نہیں کہ رعیت اور ملت پر کیا بلائیں ٹوٹ رہی ہیں۔ انہیں امور سیاسی اور لوگوں کے مصالح کا کوئی علم نہیں اور ضبط امور اور عقل اور قیاس سے انہیں کچھ بھی حصہ نہیں ملا۔اور جو لوگ بچپن میں ان کے اتالیق بنائے جاتے ہیں وہی انہیں شراب اور باجوں اور پہاڑوں پر مَے نوشی کی محفل آرائی کی ترغیب دیتے ہیں خصوصاً بارش اور نسیم صبا کے چلنے کے وقت۔ اسی طرح حرمات اللہ کے نزدیک جاتے ہیں اور ان سے بچتے نہیں۔ اور حکومت کے فرائض کو ادا نہیں کرتے اور متقی نہیں بنتے۔ یہی وجہ ہے کہ شکست پر شکست دیکھتے ہیں۔ شغل من غیر الخمر والزمر والشہوات النفسانیۃ۔ یبذلون خزائن لاستیفاء اللذّات الفانیۃ۔ ویشربون الصہباء جہْرۃً علی شاطی الأنہار المصرّدۃ والمیاہ الجاریۃ۔ والأشجار الباسقۃ۔ والأثمار الیانعۃ۔ والأزہار المنوّرۃ۔ جالسین علی الأنماط المبسوطۃ۔ ولا یعلمون ما جری علی الرعیّۃ والملّۃ۔ لیس لہم معرفۃ بالقانون السیاسی وتدبیر مصالح الناس۔ وما أُعطِیَ لہم حظ من ضبط الأمور والعقل والقیاس۔ والذین یُتَخَیّرون لتَأدیبہم فی عہد الصبا۔ فہم یُرغّبونہم فی الخمر والزمر وعلی منادمۃٍ علی الرُبَی۔ سیّما فی أوقات المطر وعند ہزیز نسیم الصبا۔ کذالک یقربون حرمات اللّٰہ ولا یجتنبون۔ ولا یُؤدّون فرائض الولایۃ ولا یتّقون۔ ولذالک یرون ہزیمۃ علی ہزیمۃ۔