اور لوگوں پر مہربانی نہیں کرتے خواہ کیسے ہی جان پہچان کے آدمی ہوں اور اپنے رفیقوں کو بھی اپنی چیزیں دینے سے بخل کرتے ہیں بلکہ اگر تم دوڑاؤ اپنی آنکھ کو ان میں اور بار بار ان کے منہ کو دیکھو تو تم اس قوم کی ہر جماعت کو پاؤ گے کہ فسق اور بد دیانتی اور بے حیائی کا لباس پہنا ہوا ہے۔ اور ہم اس جگہ تھوڑا سا حال اپنے زمانہ کے بادشاہوں اور دوسرے لوگوں کا لکھتے ہیں جو ہواپرست لوگ ہیں اورپھر ہم اُس علاج کو لکھیں گے جو خدا نے ان فسادوں کے دور کرنے کے لئے ارادہ کر رکھاہے اور نیز اسلام اور مسلمانوں کے تدارک کے لئے جو مقدر کر رکھا ہے۔ جان خدا تیرے پر رحم کرے کہ اکثر بادشاہ اس زمانہ کے اور امراء اس زمانہ کے جو بزرگان دین اور حامیان شرع متین سمجھے جاتے ہیں وہ سب کے سب اپنی ساری ہمت کے ساتھ زینت دنیا کی طرف جھک گئے ہیں۔اور شراب اور باجے اور نفسانی خواہشوں کے سوا انہیں اور کوئی کام ہی نہیں۔ ویُخَیّبون الناس من عوارف۔ ولو کانوا من معارف۔ ویبخلون بما عندہم مَرافقہم۔ ولو کان مُرافقہم۔ بل إذا أجلتَ فیہم بصرک۔ وکرّرتَ فی وجہہم نظرک۔ وجدت أکثر طوائف ہذہ الملّۃ۔ قد لبسوا ثیاب الفسق وترک الدیانۃ والعفّۃ۔ ۔ وإنّا نذکر ہہنا نبذًا من حالات ملوک زماننا وغیرہم من أہل الأہواء ۔ ثم نکتب بعدہ ما أراد اللّٰہ لدفع تلک المفاسد وتدارک الإسلام والمسلمین من السماء۔ اعلم رحمک اللّٰہ أن أکثر طوائف الملوک وأُولی الأمر والإمرۃ۔ الذین یُعدّون من کبراء ہذہ الملّۃ۔ قد مالوا إلی زینۃ الدنیا بکل المیل والہمّۃ۔ واستأنسوا بأنواع النعم واللّہنیۃ۔ وما بقی لہم ( فی حالات ملوک الإسلام فی ہذہ الأیام ) (بادشاہوں کے حالات)