تمہیں گمان ہے کہ جو تم جانتے ہووہ خدا نہیں جانتا۔کیا وہ قادر نہیں اُن پر جن پر تم قادر ہو۔ایسا نہیں بلکہ تم اُسے اچھی طرح نہیں پہچانتے اور تکبر کرتے ہو۔اورخداتعالیٰ جسے چاہے علم میں وسعت اور فراخی عطا فرمائے کیا تم سوچتے نہیں۔اور تم سب گڑھے میں گرنے کے لئے طیارتھے۔پس خدا نے تم پر رحم کیا کیا تم شکر نہیں کرتے۔
مسلمانوں میں بگاڑ پیدا ہو گیاہے۔ اورنیک لوگ سرخ گندھک کی مانند ہوگئے ہیں۔ان میں نہ تو اخلاق اسلام رہے ہیں اور نہ بزرگوں کی سی ہمدردی رہ گئی ہے۔کسی سے براآنے سے باز نہیں آتے خواہ کوئی پیارایار کیوں نہ ہو۔لوگوں کو کھولتا ہوا پانی پلاتے ہیں۔خواہ کوئی خالص دوست ہی ہو۔ اور دسواں حصہ بھی بدلہ میں نہیں دیتے خواہ بھائی ہو یا باپ یا کوئی اور رشتہ دار ہو۔اورکسی دوست اور حقیقی بھائی سے بھی سچی محبت نہیں کرتے اور ہمدردوں کی بڑی بھاری ہمدردی کو بھی حقیر سمجھتے ہیں اور محسنوں سے نیکی نہیں کرتے۔
ظننتم أن اللّٰہ لا یعلم ما تعلمون؟ أو لا یقدر علی ما تقدرون۔
کلا بل لا تعرفونہ حق المعرفۃ وتستکبرون۔ واللّٰہ
یجعل لمن یشاء بسطۃ فی العلم أفلا تُفکّرون۔وقد
کنتم علی شفا حفرۃ فرحمکم اللّٰہ أفلا تشکرون۔
ظہر الفساد فی المسلمین۔ وصارت ککبریت أحمر زُمر الصالحین۔ ما تری فیہم أخلاق الإسلام۔ ولا مواساۃ الکرام۔ لا ینتہون من التخلیط ولو بالخلیط۔ ویُجرّعون الناس من الحمیم۔ ولو کان أحد کالولیّ الحمیم۔ ولا یُکافؤن بالعشیر۔ ولو کان أخ أو من العشیر۔لا یصافون شفیقا ولا شقیقا۔ ویستقِلّون جزیل المؤاسین۔ ولا یُحسنون إلی المحسنین۔
مَا بال المسلمین وَمَا العلاج
فی ہٰذا الحِین۔
اس وقت علاج کیا چاہیئے۔
مسلمانوں کا کیا حال ہے اور