سو اگر منار کا ایڈیٹر اس جہت سے مجھ سے بگڑا ہے تو میں اس کی غیرت کی وجہ سے اس کے لئے خدا سے دعا کرتا ہوں اوراگر مَیں اس کی جگہ ہوتا تو مَیں بھی وہی کہتا جو اس نے کہا۔میرے نزدیک خدا کی *** اس پر جو قرآن کے اعجاز کا انکار کرتا اور اپنے کلام اور نظام کو بجائے خود کوئی مستقل شے سمجھتا ہے۔اور خدا کی قسم ہم تو اسی چشمہ سے پیتے اور اس کی زینت سے آراستہ ہوتے ہیں۔اسی سبب سے تو ہمارے کلام میں نور اور صفا ہوتی۔اور ہماری گویائی میں روشنی اور شفا اور تازگی اور خوبصورتی چمکتی ہے۔اور مجھ پر قرآن کے سوا اورکسی کا احسان نہیں اور اس نے میری ایسی پرورش کی ہے کہ ویسی ماں باپ بھی تو نہیں کرتے۔اور خدا نے مجھے اُس سے خوشگوار پانی پلایا۔ اور ہم نے اُس کو روشن کرنے والا اور مددگار پایا۔پانی پلادیاہے کہ اب مجھے کوئی سوزش اور گرمی محسوس نہیں ہوتی اور ہم نے کافوری پیالہ پیا ہے۔اور یہ میرا کلام میری ناتوان بیمار قلم کی طرف سے نہیں بلکہ یہ تو حکیم علیم کی باتیں ہیں۔نبی کریم کے افاضہ کے وسیلہ سے۔ سو تم تکذیب پرہی کمر نہ باندھ لو بلکہ دانا اور زکی بن کر سوچو۔کیا فإن کان مدیر المنار تزرّی علیّ لہذا الاعتذار۔ فندعو لہ لغیرتہ للّٰہ الغیور الغفار۔ ولو قمتُ علی مقامہ۔ لقلتُ کمثل کلامہ۔ ولعنۃ اللّٰہ علی من أنکر بإعجاز القرآن وجوہر حُسامہ۔ وتفرّد دُرّۃ کلمہ ونظامہ۔ وواللّٰہ إنّا نشرب من عینہ۔ ونتزین بزینہ۔ ولذالک یسعی علی کلامنا نور وصفاء ۔ وفی نطقنا یبہر لمعانٌ وضیاء۔ وبرکۃ وشفاء ۔ وطلاوۃ وبہاء ۔ ولیس علیّ منّۃ أحدٍ من غیر الفرقان۔ وإنّہ ربّانی بتربیۃ لا یُضاہیہا الأبوان۔ وسقانی اللّٰہ بہ مَعینًا۔ ووجدناہ منیرًا ومُعینًا۔ فلا نعرف التہابا ولا حرورا۔ وشربنا من کأس کان مزاجہا کافورا۔ وإن کلامی ہذا لیس من قلمی السقیم۔ بل کلام أفصحت من لدن حکیم علیم۔ بإفاضۃ النبی الرؤوف الرحیم۔ فلا تجعلوا رزقکم أن تکذّبوہا بل فکّروا کالزکیّ الفہیم۔ أم