مگر قرآن کریم کے سواروں کا یہ حال ہے کہ وہ آبادی کے ہر دائرہ کو قطع کرتے ہیں۔قرآن کریم ایک کتاب ہے جس کے نیچے عرفان کے دریا بہتے ہیں۔اور کسی گویائی کا پرندہ اس سے فوق اُڑ نہیں سکتا۔اور ہر پونجی والا اسی کے خزانوں اور دفینوں سے کچھ لیتا ہے اور میرے نزدیک ہر متکلم اس قرضہ میں مبتلا ہونے کے بغیر محض تہی دست ہے۔اور قرضدار سے سخت تقاضاکیا جاتا اور سخت کوشش کی جاتی ہے کہ قاضی تک پہنچا کر اس سے روپیہ وصول کیا جائے۔مگر قرآن کریم تنگ دستوں کو صدقات دیتا اور ساری تنگیاں دور کرتا بلکہ اخلاص والوں کو سونے کی ڈلیاں دیتا ہے۔اور اپنے قرضداروں کو مہلت دینے کا احسان نہیں جتاتا بلکہ ان کو سونا اکٹھے کرنے کی ترغیب دیتا ہے اور کسی چور کو اگر وہ ڈرنے والا شخص ہی ہو نہیں پکڑتا۔اور ہم تو اول کوزے بنے پھر قرآن کے دریا سے لبالب ہوئے۔ وأمّا خیل الفرقان فیجوبون کل دائرۃ العمران۔ وہو کتاب تجری تحتہ بحار العرفان۔ ولا یطیر فوقہ طیر التبیان۔ و ما تکلّم أحد إلا ادّان من خزائنہ۔ وأخرج من بعض دفائنہ۔ وأری کل متکلّم صفر الیدین۔ من غیر التطوّق بہذا الدّیْن۔ و کل غریم یجدّ فی التقاضی۔ ویلجّ فی الافتیاد إلی القاضی۔ وأمّا القرآن فیتصدّق علی أہل الاملاق۔ وینزع عن الارہاق۔ بل یُعطی سبائک الخِلاص۔ لأہل الإخلاص۔ ولا یمن علی الغرماء بالإنظار۔ بل یُرغّبہم فی احتجان النضار۔ ولا یأخذ سارقا۔ إن کان فارقًا*۔ وإنّا نحن تلامیذ الفرقان۔ وأُترِعْنَا من بحرہ بعد ما صرنا کالکیزان۔ *الحاشیۃ:اعنی مَن اقتبس من القراٰن اٰیۃً بصحۃالنیّۃ۔خائفًامن الحضرۃ فلا اثم علیہ عند عالم النیّات ذی الجود والمِنّۃِ۔منہ