اور وہی رویا دیکھی ایک دوسرے عامی کم فہم
پست ہمت نے۔سو اس میں شک نہیں کہ بادشاہ کا
خواب اور اس عامی کا گو ظاہر میں ایک ہی ہیں۔ لیکن
دانشمند اور تعبیر جاننے والے کے نزدیک ایک نہیں۔بلکہ
عادل بادشاہ کی تعبیر بہت بلند اور عام
اور نفع رسان اور سب لوگوں کے حق میں خیر و
برکت اور بہت ہی درست اور صاف ہے۔ مگر عامی کی
رویا اکثر صورتوں میں آمیزش اور میل کچیل سے پاک نہیں
ہوتی۔اس کے علاوہ اس کا اثر بیٹوں اور باپوں یا تھوڑے سے دوستوں سے آگے نہیں جاتا۔اور اگر اغیار سوار بھی ہوں تو بھی بہت ہی نزدیک جگہ میں
ڈیرے ڈال دیتے ہیں اور پالانوں سے اتر کر آشیانوں میں گھس جاتے ہیں۔
ورأی ہذہ الرؤیا بعینہا رجل آخر قلیل الفہم قلیل الہمّۃ
ومن عامّۃ الناس۔ فلا شکّ أن رؤیا الملک ورؤیا ہذا
الرجل وإن کانت واحدۃ غیر ممیّزۃ فی ظاہر الحالات۔
ولٰکن لیست بواحدۃ عند عارف تعبیر الرؤیا وذی
الحصات۔ بل لرؤیا الملک العادل تعبیر أعلی
وأرفع وأعمّ وأنفع۔ وہی للناس کلہم خیر ومع ذالک
أصح وألمع۔ وأمّا رؤیا رجل ہو من أدنی الناس۔ فلا
یتخلّص فی أکثر صورہا من الالتباس، بل من الأدناس۔
ثم مع ذالک لا تجاوز أثرہا من الأبناء والآباء۔أو شرذمۃ
من الأحبّاء ۔ وإنّ رکْبَ ہؤلاء الأغیار۔ ینیخون بأدنی
الأرض مطایا التسیار۔ وینتقلون من الأکوار إلی الأوکار۔