بلکہ وہ ایسی وحی ہے کہ اس کی مثل اور کوئی وحی بھی نہیں اگرچہ رحمان کی طرف سے اس
کے بعداور کوئی وحی بھی ہو۔اس لئے کہ وحی رسانی میں خدا کی تجلیات ہیں اور
یہ یقینی بات ہے کہ خدا تعالیٰ کی تجلی جیسی کہ خاتم الانبیاء پر ہوئی ایسی کسی پر نہ پہلے
ہوئی اور نہ کبھی پیچھے ہوگی۔اور جو شان قرآن کی وحی کی ہے وہ اولیاء کی وحی
کی شان نہیں۔اگرچہ قرآن کے کلمات کی مانند کوئی کلمہ انہیں وحی کیا جائے۔اس لئے کہ قرآن کے معارف کا دائرہ سب دائروں سے بڑا ہے۔اور اس میں سارے علوم اور
ہر طرح کی عجیب اور پوشیدہ باتیں جمع ہیں اور اس کی دقیق باتیں بڑے اعلیٰ
درجہ کے گہرے مقام تک پہنچی ہوئی ہیں۔اور وہ بیان اور برہان میں سب سے بڑھ کر اور اُس میں سب سے زیادہ عرفان ہے اور وہ خدا کا معجز کلام ہے جس کی مثل کانوں نے نہیں سنااور اس کی شان کو جِن وانس کا کلام نہیں پہنچ سکتا۔سو قرآن اور دوسرے کلام کی مثال اس رویا کی ہے جو دیکھی ایک بادشاہ عادل بلند ہمت اور پورے دانا نے۔
بل إنہ وحیٌ لیس کمثلہ غیرہ وإن کان بعدہ وحیا آخر
من الرحمان۔ فإن للّٰہ تجلّیات فی إیحاۂ۔ وإنہ ما تجلّی
من قبل ولا یتجلّی من بعد کمثل تجلّیہ لخاتم أنبیاۂ۔
ولیس شأن وحی الأولیاء کمثل شأن وحی الفرقان۔
وإن أُوحِی إلیہم کلمۃ کمثل کلمات القرآن۔ فإن دائرۃ
معارف القرآن أکبر الدوائر۔ وإنہا أحاطت العلوم کلہا
وجمعت فی نفسہا أنواع السرائر۔ وبلغت دقائقہا إلی المقام
العمیق الغائر۔ وسبق الکل بیانا وبرہانا وزاد عرفانا۔ و
إنہ کلام اللّٰہ المعجز ما قرع مثلہ آذانا۔ ولا یبلغہ قول
الجنّ والإنس شأنا۔ فمثل القرآن وغیر القرآن کمثل
رؤیا رآہا ملک عادل رفیع الہمّۃ کامل الفہم والقیاس۔