ہوجاتے۔ اس لئے کہ یہ وارث نقش ہوتے ہیں اُس اصل کے جوگزرچکی ہوتی ہے اور گویا عکس ہوتے ہیں ایک صورت کے جو شیشہ میں نظر آتا ہے۔ان لوگوں نے فناکی سلائیوں سے سرمہ آنکھ میں ڈالا ہوتا اور ریاکاری کے آنگن سے کوچ کرچکے ہوتے ہیں۔اس طرح پران کا اپنا تو کچھ بھی رہا نہیں ہوتا اور خاتم الانبیاء کی صورت ہی نمودار ہوجاتی ہے۔سو ان لوگوں سے جوکچھ خارق عادت افعال یا اقوال پاک نوشتوں سے مشابہ تم دیکھتے ہووہ ان کی طرف سے نہیں بلکہ وہ حضرت سید المرسلین(ﷺ)کی طرف سے ہوتے ہیں۔ہاں وہ ظلیت کے لباسوں میں ہوتے ہیں۔اور تمہیں اولیاء الرحمان کی نسبت ایسی بزرگی اور شان میں شک ہے تو پڑھ لو آیت صراط الذین انعمت علیھم کو غوراور فکر سے۔کیا تم تعجب کرتے ہو اور شکرگزار نہیں ہوتے۔اور تم آئینوں میں اپنی صورتیں دیکھتے ہو پھر بھی نہیں سوچتے۔سنوخدا کی *** ان پر جو دعویٰ کریں کہ وہ قرآن کی مثل لاسکتے ہیں۔قرآن کریم معجزہ ہے جس کی مثل کوئی انس و جن نہیں لاسکتااور اس میں وہ معارف اور خوبیاں جمع ہیں جنہیں انسانی علم جمع نہیں کرسکتا۔
فإنہم کأثر لعین انقضی۔ وکعکس لصورۃ فی المرآۃ یُرَی۔ وإنہم اکتحلوا بمرود الفناء ۔ وارتحلوا من فناء الریاء ۔ فما بقی
شیء من أنفسہم وظہرت صورۃ خاتم الأنبیاء ۔ فکل ما ترون
منہم من أفعال خارقۃ للعادۃ۔ أو أقوال مشابہۃ بالصحف
المطہّرۃ۔ فلیست ہی منہم بل من سیّدنا خیر البریّۃ۔ لکن فی
الحلل الظلّیۃ۔ وإن کنتم فی ریب من ہذا الشان۔ لأولیاء
الرحمان۔ فاقرء وا آیۃ ’’3‘‘
بالإمعان۔ أتعجبون ولا تشکرون؟ وترون صورکم فی
المرایا ثم لا تُفکّرون۔ألا إن لعنۃ اللّٰہ علی الذین یقولون إنّا
نأتی بمثل القرآن۔ إنہ معجزۃ لا یأتی بمثلہ أحدٌ من الإنس والجان۔ وإنہ جمع معارف ومحاسن لا یجمعہا علم الإنسان۔