اور ان کی زمین خشک سالی کی ماری ہوئی ہے اور خیروبرکت ان سے بالکل جاتی رہی ہے۔ اُن کی خوشحالی اور بزرگی کبھی واپس نہ آئے گی جب تک خدا کی طرف رجوع نہیں لائیں گے اور ان کا برا حال نہیں بدلے گا جب تک اپنی نیتوں کو پاک صاف نہیں کریں گے۔اور اگر تمام روئے زمین کے باشندے اُن کے مددگار بن جائیں خدا کے مرسلوں پر کبھی غالب نہ آسکیں گے۔خواہ متقیوں کے سوا اگلے پچھلے لوگوں کوبھی لیتے آئیں۔وہ گذرے ہوئے لوگوں کے حال میں غور نہیں کرتے۔ کیا وہ خدا کے رسولوں پر غالب آگئے تھے یا مغلوب ہوئے تھے۔سنوساری قلمیں خدا کے قبضے میں اور وہ کتاب مبین کے معجزات میں سے ایک معجزہ ہیں۔پھر وہی قلمیں آنحضرت (ﷺ) کی پیروی کی قدر پر مقربوں کو عطا ہوتی ہیں اس لئے کہ معجزات چاہتے ہیں کرامات کو تو کہ اُن کا نشان قیامت تک باقی رہے اوراپنے نبی علیہ السلام کے وارثوں کو بطور ظلیت کے آپ کی نعمتیں مرحمت ہوتی ہیں۔اور اگر یہ قاعدہ جاری نہ رہتا تو نبوت کے فیض بالکل باطل وأجدبت بقعتہم۔ وتخلی بعد الإخلاء منتجعہم ونُجعتہم۔ ولن یُردّ إلیہم جلالۃ شأنہم حتی یردّوا أنفسہم إلی الحضرۃ۔ ولن یُغیّر ما بہم حتی یُغیّروا ما فی الطویّۃ۔ ولو أن ما فی الأرض أنصارا لہم ما کان لہم أن یُعجزوا المرسلین۔ ولوأ توا بالأوّلین والآخرین۔ من دون المتّقین۔ ألا ینظرون إلی الذین خلوا من قبلہم ہل ہم غلبوا وأعجزوا رسل اللّٰہ؟ أو کانوا من المغلوبین۔ألا إن الأقلام کلہا للّٰہ وہی معجزۃ من معجزات کتاب مبین۔ ثم یتلقّاہا المقرّبون علی قدر اتّباع خیر المرسلین۔ فإن المعجزات تقتضی الکرامات لیبقی أثرہا إلی یوم الدین۔ وإن الذین ورثوا نبیّہم یُعطَون من نِعَمہ علی الطریقۃ الظلّیۃ۔ ولولا ذالک لبطلت فیوض النبوّۃ۔