لوگ ہیں جنہوں نے اپنے اندر باہر دونوں کوپاک کیاہوتا ہے اور اپنے نفس سے نکل چکے اور اپنے نشیمن کو چھوڑ چکے ہوتے ہیں۔وہ اپنے بیدادگر اور ہمسائے سے پیار کرتے ہیں اور انہوں نے نفسوں کی آگ بجھادی ہوئی ہوتی اور اپنے نوروں کوکامل کیاہوا ہوتا ہے۔مگر دنیاداروں کے نفس اس دن کی مانند ہوتے ہیں جس کی فضا میں خطرناک سردی اور اس کے بادل سخت گھنے اور تاریک ہوں۔یہ لوگ تقویٰ کے لباسوں سے برہنہ اور بدکاریوں کے غلبہ کے سبب سے محض ننگے ہوتے ہیں۔انہوں نے گھمنڈ اور خودبینی کے کپڑے پہنے ہوتے ہیں۔سو ایسے حال میں خداکی طرف سے انہیں کیونکر تائید ملے۔ان کے پیچھے ان کے بال بچے اور عیال پڑے رہتے ہیں جو انہیں شیطان کی طرف بلاتے ہیں۔وہ روتے ہیں کہ فقر فاقہ اور افلاس سے ہلاک ہوگئے اور لاغری اور تنگ گذرانی نے انہیں ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور ذرہ بھر بھی آرام اور چین انہیں نہیں۔پھر بھی کہے جاتے ہیں کہ ہم ادب کی انجمنوں کے سردار اور زبان عرب کے حامی کار ہیں۔جھوٹے ہیں بلکہ ان کی ہوا ٹھہر گئی ہوئی ہے اوران کے چراغ گُل ہوچکے ہیں إنہم قوم زکّوا دثارہم وشعارہم۔ وخرجوا من أنفسہم۔ وزایلوا وجارہم۔ ورحموا من جار علیہم وَجارَہم۔ وأطفأوا نار النفس وکمّلوا أنوارہم۔ وأمّا نفوس أہل الدنیا فتشابہ یومًا جوّہ مزمہر۔ ودجنہ مُکفہرّ۔ وتراہم عاری الجلدۃ من حُلل الاتّقاء ۔ وبادی الجردۃ من غلبۃ الفحشاء ۔ قد اعتمّوا بریطۃ الاستکبار۔ واستثفروا بفویطۃ الخیلاء والفخار۔ فکیف یؤیّدون من رب العالمین؟ بل وراء ہم ضفف وکرش یدعونہم إلی الشیاطین۔ یبکون أنہم أہلکوا من الشظف وصفر الراحۃ۔ وحصّہم جنف وقشف فما بقی معہم ذرّۃ من الراحۃ۔ ثم یقولون نحن سُراۃ أندیۃ الأدب۔ وحُماۃ لسن العرب۔ کلا بل رکدت ریحہم۔ وخَبَت مصابیحہم۔