روانی چشمہ کی طرح اور انہیں دل کی بینائی اور نور دیدہ دونوں بخشی جاتی ہیں اور وہ پاتے ہیں اپنے رب سے دو حصے اور لوٹتے ہیں دوہری لوٹ لے کر۔ اور وہ وہ لوگ ہیں جو اُتر پڑے ہیں ہوائے نفس کی سواری کی پیٹھ پر سے اور اُترے ہیں فنا کے آنگن میں۔ان کی نیتیں اورمقاصد بڑے ہیں اور غفلت ان میں نہیں۔اللہ کی راہ میں کوئی ایسا نشان نہیں دیکھتے جس کی پیروی نہ کریں اور کوئی ایسی دیوار نہیں دیکھتے جس پر چڑھ نہ جائیں اور نہ کوئی ایسی وادی جسے طے نہ کریں اور نہ کوئی ایسا ہادی جس سے راہ کی خبر نہ پوچھ لیں۔وہ رحمان کے عاشق اور اس کی راہ میں سرمست اور متوالے ہوتے ہیں۔ وہ ہے کون جو اُن کی توہین وتحقیر کرے یااُن جیسی صفات پیدا کر دکھائے جو شخص ان کے مقابل مخالف بن کر آیا وہ روسیاہ ہوا۔وہ لوگ مشکلات کے وقت خدا کی طرف دوڑتے ہیں ایسے آنسوؤں کے ساتھ جو گرم دیگچی سے بھی زیادہ گرم ہوتے ہیں۔ وہ اس درخت کی مانند ہوتے ہیں جس کی شاخیں گھنی ہوں اور اس کی ٹہنیوں پر خوب پتیاں ہوں اور بہشتی پھل اُسے لگے ہوں اور جواس کے پاس آوے تربترمیوے اُس پر گرائے سوبھوکے کو خوشخبری ہو۔وہ وہ
اللسان وطلاقۃ کالعین۔ ویُرزقون بصیرۃ القلب مع نور العین ویقوزون* من ربّہم بالسہمین۔ ویرجعون بالغُنْمَین وإنّہم قوم
نزلوا عن متن رکوبۃ الأہواء ۔ وحلّوا فِناء الفَناء۔ جلّت نیتہم۔ و
قلّت غفلتہم۔ لا یرون فی سبیل اللّٰہ أثرا إلا یقْفونہ۔ ولا جدارًا
إلا یعلونہ۔ ولا وادیا إلاّ یجزعونہ۔ ولا ہادیا إلا یستطلعونہ۔
عُشّاق الرحمان۔ وفی سبیلہ کالنشوان۔ من ذا الذی
یقرع صَفاتہم۔ أو یُضاہی صِفاتہم۔ ومن جاء ہم کدبیر۔ فقد
لُفح ولا کلفح ہجیر۔ إنّہم یسعون إلی الحضرۃ عند المشکلات۔ بدمع أحرّ من دمع المقلات۔ وإنّ مثلہم کمثل سرحۃ
کثیفۃ الأغصان۔ وریقۃ الأفنان۔ مثمرۃ بثمار الجنان۔ و
من أتاہا تُساقط علیہ رُطَبًا جنیًّا فطوبٰی للجَوعان۔