راہ میں بڑی بھاری چٹان بن گیا ہے۔سو وہ اس شغل میں فریضۂ نماز کی طرح لگے رہتے ہیں۔
اور اخباروں کو انعامات اور صلات کے حاصل کرنے اور روپیہ پیسہ کمانے کے لئے شائع کرتے ہیں۔بجز قدرے قلیل متقیوں کے۔ اوراکثر تو نفسانی خواہشوں کی ہواؤں میں اڑتے ہیں اور آسمان کی طرف پرواز کرنے سے ان کے پر و بال کاٹے گئے ہیں۔گھٹاٹوپ اندھیرے میں چلتے ہیں اور تم دیکھتے ہو کہ وہ دنیا کی خاطر بے چین رہتے ہیں اور ان کی قلمیں اسی فانی دنیا کی ضیافتوں کے لئے چیختی چلاتی ہیں۔وہ ڈھونڈتے ہیں بہت دودھ دینے والی کم ضرر اونٹنی کو۔ڈھونڈنتے ہیں شکار کو ساحل پر اور جال اور رسیوں کو کاندھے پر۔ہر بادرخت اور بے درخت جنگل میں خاک چھانتے پھرتے ہیں اور اس کی خاطر دشت وبیابان طے کرتے ہیں۔تم ایک کو بھی ان سے نہ دیکھو گے خنک چشم سواروپیہ پیسہ کے حاصل کرنے کے۔اور ان کی ساری رات گذرتی ہے ان ہی خیالوں میں۔اوردن سارا کٹتا ہے عبارتوں کی تراش خراش میں۔سو انہیں روحانیوں اور ربّانی بندوں سے کیا نسبت۔جنہیں دی جاتی ہے زبان کی شیرینی اور
فی سُبُلہم کالصلات۔ فہم یُحافظون علیہ کفریضۃ الصلاۃ۔ یشیعون الجرائد لقبض الصِلات۔ واستنضاض الإحالات۔ إلا
قلیل من أہل التقات۔ وأکثرہم لا یطیرون إلا فی الأہواء ۔
وقُصّ جناحہم من الطیران إلی السماء ۔ یمشون فی
الظلام المسبل۔ وتراہم لدنیاہم فی التململ۔ وتصرخ أقلامہم للقَری المعجّل۔ یطلبون لقوحًا غزیرۃ الدرّ۔ قلیلۃ الضرّ۔ یستقرون الصید إلی السواحل۔ والأحبولۃ علی الکاہل۔ ویقترون کل
شجراء ۔ ومرداء ۔ ویجوبون لہا البیداء والصحراء ۔ وما
ترٰی أحدا منہم قریر العین۔ إلا بإحراز العین۔ وتمضی لیلتہم جمعاء فی ہذہ الخیالات۔ والنہار أجمع فی نحت العبارات۔ فما لہم وللروحانیّین۔ والعباد الربّانیّین۔ الذین یُعطَون عذوبۃ