یہ ہو کیونکر سکتاہے اس لئے کہ اہل دنیا کے دِل ٹڈیوں کی طرح پراگندہ ہوتے ہیں۔ان کی زبانیں تو بیشک اونچی زمین پرہوتی ہیں پر روحیں گڑھوں میں۔کہتے ہیں ہم عرب ہیں اور ہمیں ہماری ماؤں نے ادب کا دودھ پلایا ہے اور ہم گویائی کے ملک کے سردار ہیں اور پسران گفتارہیں۔ سویہ لوگ سرکش نفسوں سے گردنیں اکڑارہے ہیں۔اوراپنے تئیں بڑی مضبوط بارگاہ میں جگہ دیتے ہیں اور گمان کرتے ہیں کہ ہر ایک عظیم الشان آدمی کو ہرا سکتے ہیں اور نادانی کی وجہ سے نہیں سمجھ سکتے کہ خدا کے دوستوں کو وہ حسن بیان اور معارف دیئے جاتے ہیں جو اہلِ زبان کو نہیں ملتے۔اور دوسرے لوگ خواہ کتنی ہی زحمت اٹھائیں اور وقت خرچ کریں ان کے کمال کو پانہیں سکتے اور سحبان کی بلاغت بھی انہیں مل جائے جب بھی انہیں اس شان سے کہاں حصہ مل سکتا ہے۔ اس لئے کہ انہوں نے ایمان کے آئینہ کو تو کبھی جلا دی ہی نہیں۔اور عرفان کا مزا کبھی چکھا ہی نہیں۔پھر اس کے علاوہ حماقت اور محرومی دوباتیں
ان کی حصہ میں آئی ہیں اور وہ خدا کی طرف رجوع نہیں کرسکتے بلکہ اخبار نویسی کا شغل ان کی
وإن قلوبہم منتشرۃ کانتشار الجراد۔ وإن السنہم علی النجاد۔ وأرواحہم فی الوہاد۔ یقولون إنّا نحن من العرب۔ وغُذّینا من أمّہاتِنا درّ الأدب۔ وإنّا فی مُلْکِ النطق کاقیال۔ وأبناء أقوال۔ فقد استکبروا بنفوسہم الأبیّۃ۔ وألسنتہم العربیّۃ۔ وأوطنوا أنفسہم امنع جنابٍ۔ وزعموا أنہم یفلّون حدّ کل ناب۔ وما عرفوا من غباوۃ الجنان۔ أن أولیاء الرحمان۔ یُعطَون ما لا یُعطَی لأہل اللسان۔ من المعارف وحسن البیان۔ ولا یُدرک براعتہم غیرہم مع جہدٍ مُعنتٍ وصرف الزمان۔ وأنّی لہم نصیب من ہذا الشان۔ ولو أوتوا
بلاغۃ سحبان۔ فإنہم ما صقلوا مرآۃ الإیمان۔ وما ذاقوا طعم العرفان۔ ثم جمعوا بین الحمق والحرمان۔ وما
استطاعوا أن یرجعوا إلی الرحمٰن۔ بل صار شغل جرائدہم