اور اس کے کیڑے مکوڑے بہت ہو گئے ہیں۔ اور وہ ایک وادی سے دوسری میں مارا مارا پھرتا ہے اور نہ اس کے پاس چراغ ہے اور نہ کسی رہنماکی آواز سنتا ہے اور نہ اس کا کوئی ساتھی ہے اور نہ سفر خرچ ہی پاس ہے۔ اور نہ کوئی بدرقہ ملتا اور نہ کوئی مژدہ رسان نظر آتا ہے اور نہ روشن چراغ۔اور ایک اور شخص ہے جس نے سفر کرنا چاہا ہے سواروں اور پیادوں کے ساتھ۔پس وہ آہووش گھوڑے پر سوارہوا اور آفتاب کے چڑھتے ہی شہر سے نکل کھڑا ہوا اپنے چند رفیقوں کے ساتھ جو ہالہ کی طرح تھے اور بھٹکنے سے بچانے والے تھے۔کیا دانشمندوں کے نزدیک یہ دونوں شخص برابر ہیں۔اس مثال میں ڈرنے والے کے لئے عبرت ہے۔سو سچ یہی ہے اور مَیں سچ سچ کہتا ہوں کہ اللہ کے لوگوں کو بندوں کے پروردگار سے روزی ملتی ہے اور درستی کی راہ کی طرف انہیں چلایا جاتا ہے۔اور کامیابی کے سارے لوازم ان کے لئے بہم پہنچائے جاتے ہیں اور انہیں سازوسامان کے لئے جتنی قوت درکار ہوتی ہے اور صیدگاہ پر چڑھنے کے لئے کافی ہوتی ہے بخشی جاتی ہے۔سو دنیا داروں کے برتے میں نہیں ہوتا کہ ان سے آگے نکل جائیں اور ان کا سادِل گردہ لائیں۔خواہ گھوڑوں کی طرح دوڑیں۔اور وکثر ہوامہا۔ وہو ینقل تاۂا من واد إلی واد۔ ولیس معہ سراج ولا یسمع صوت ہاد۔ وما رافقہ من رفیق وما تزوّد من زاد۔ ولا یجد خفیرا۔ ولا یریٰ بشیرا۔ ولا مصباحا منیرا۔ ورجل آخر أراد سفرًا بالخیل والرجالۃ۔ فتدثر فرسا کالغزالۃ۔ وخرج من البلدۃ إذا ذرّ قرن الغزالۃ۔ مع رفقۃ کالہالۃ۔ عاصمین من الضلالۃ۔ ہل یستوی ذالک وہذا عند أولی النُہٰی۔ وإن فی ذالک لعبرۃ لمن یخشٰی۔ فالحق والحق أقول إن أہل اللّٰہ یُرزقون من ربّ العباد۔ ویُہدَون إلی طریق السداد۔ ویُہیَّأُ لہم جمیع لوازم الرشاد۔ ویُعطی لہم کل قوّۃ وجبت للعتاد۔ وکفت للارتقاء علی المصاد۔ فما کان لأہل الدنیا أن یُسابقوہم ویأتوا بأکباد مثل تلک الأکباد۔ ولو استنّوا استنان الجیاد۔ وکیف