دانشمندہیں اور کبھی جھوٹی تعریفوں سے روزی کما کھاتے ہیں اور کبھی کسی کی ہجو اور ذم سے۔ اس لئے کہ اپنے لئے روپیہ جمع کرلیں اور مصیبتوں سے چھوٹ جائیں۔ سو اس میں شک نہیں کہ ان کی زبانیں شیطانی ولایت سے ہیں اور ربّانی کرامت سے نہیں اورمال اور روپیہ جمع کرنے کے حیلے بہانے ہیں عجیب اعجاز کی قسم سے نہیں۔ اور میری بلاغت وہ شے ہے کہ ذہنوں کے زنگ اس سے دور ہوتے ہیں اور حق کے مطلع کو نور برہان سے روشن کرتی ہے اور مَیں رحمان کے بلائے بولتا ہوں۔پس کیونکر میرے مقابل کھڑا ہوسکتا ہے جس کی نگہ دنیا تک محدود ہے اور بالمقابل اس کی طرف جھک پڑا ہے اور عورتوں کی طرح اس کی زینت پر راضی ہوگیا ہے۔ کیا وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ اہلِ زبان ہیں۔عنقریب شکست کھائیں گے اور میدان سے دُم دبا کر بھاگیں گے۔ان کی مثال اس لنگڑی اونٹنی کی سی ہے جو پورے مضبوط گھوڑے کی غایت کو پا لینا چاہتی ہے سو ایک ہی قدم چل کر گردن کے بل گر پڑتی ہے یا اس تنہا پیادہ کی سی ہے جو چلتا ہے ایسی رات میں جس کے گیسو سفید ہو رہے ہیں اور اس کی آفتیں پے در پے آرہی ہیں اور اس کا اندھیرا سخت ہو رہا ہے۔ بالاطراء ۔ والأخری بالازدراء ۔ لینثالوا علی أنفسہم الدراہم ولیتخلصوا من اللأواء ۔ فلا شک أن لسنہم من الولایۃ الشیطانیۃ۔ لا من الکرامۃ الربّانیۃ۔ ومن حِیَل الاقتناء والاحتیاز۔ لا من بدائع الإعجاز۔ وإن بلاغتی شیء یُجلی بہ صداء الأذہان۔ ویجلی مطلع الحق بنور البرہان۔ وما أنطقُ إلا بإنطاق الرحمان۔ فکیف یقوم حذتی من قیّد لحظہ بالدنیا و مال إلیہا کل المیلان۔ ورضی بزینتہا کالنسوان۔ أم یزعمون أنہم من أہل اللسان؟ سیہزمون ویولّون الدبر عن المیدان۔ ومثلہم کمثل ظالع یرید لیدرک شأو الضلیع فلا یمشی إلا قدمًا ویسقط علی الدسیع۔ أو کرجل راجل وحید یسری فی لیلۃٍ شابت ذوائبہا۔ وانتابت شوائبہا۔ واشتدّ ظلامہا۔