کے لئے وہ معیار ہوگی۔پس اگر منار اپنی بکواس سے باز آگیا اور اپنی باتوں پر پشیمان ہوا تو ہمیں کیا ضرور ہے کہ اس کی لغزش پر گرفت کریں اور اگر اس نے اپنے مقابلہ کے حریف کو فراست سے نہ پہچانا اور میرے خوبصورت لباسوں پر اور اپنی پھٹی پرانی گدڑیوں پر آگاہ نہ ہوا تو اس پر فرض ہے کہ میرے طرز و طریق کی کتاب لکھے تو کہ خدا ہم میں خبروں اور رازوں کے ظاہر ہونے کے بعد فیصلہ کرے۔اور مجھے خداسے امید ہے کہ وہ ایسے بینااور فاضل شخص پیدا کردے گا جو میرے اور منار کے معاملہ میں سچا فیصلہ کریں گے اور میری اور اُس کی کلام کو پورے غور سے سوچیں گے اور کلام کے موتیوں کو خوب پرکھیں گے اور اندھیرے اور روشنی میں فرق کریں گے۔اور میں مانتا ہوں کہ بعض اخبار نویسوں کو کسی قدر فصاحت اور ملاحت دی گئی ہے۔مگر وہ خدا کی باتوں کے اونچا کرنے کے لئے نہیں بلکہ دنیا کا مال اور سود حاصل کرنے کے لئے خرچ ہوتی ہے اس لئے کہ جھوٹ اور بے حیائی سے روپیہ پیدا کریں۔پس ہم اس سے انکار نہیں کرتے کہ وہ فریب میں بڑے لإظہار الحق معیار۔ فإن تنصّل المنار من ہفوتہ۔ وتندّم علی فوہتہ۔ فما لنا أن نأخذہ علی عثرتہ۔ وإن لم یتوسم قرن نضالہ۔ ولم یطلع علی حللی وعلی أسمالہ۔ فعلیہ أن یکتب کتابا کمثل کتابی وعلی منوالہ۔ لیحکم اللّٰہ بیننا بعد بث الأسرار۔ ونث الأخبار۔ وأرجو من اللّٰہ أن یبعث بعض أولی الأبصار۔ وفضلاء الدیار۔ لیفتحوا بالحق بینی وبین من یرقص علی المنار۔ ولیتدبّروا کلامی وکلامہ بالغور التام۔ ولیستشفوا جوہر الکلام۔ ویُمیّزوا النور من الظلام۔ وأعترف أن بعض أہل الجرائد أُعْطوا نُبَذًا من الفصاحۃ۔ ورُزِقُوا طُرُزًا من الملاحۃ۔ ولکن لا لإعلاء کلمۃ اللّٰہ بل للاستماحۃ۔ لیحرزوا العین ولو بالکذب والوقاحۃ۔ فلا ننکر حذقہم بزرقہم وتمحل رزقہم طورا