نہ حقارت اور کسرشان کے ارادہ سے اور اس سے اس کا قصد دین کی نصرت ہوتحقیر اور توہین کا اشتعال نہ ہو۔ ایسا شخص تو اسلام کا حامی اور کلام اللہ کی عزت کی طرف جو سب کلاموں کا بادشاہ ہے بلانے والا ہے اور خدا ہر شخص کے باطن اور راز کو جانتا ہے اور جس کی جو نیت ہو گی وہی پھل اسے ملے گا۔لیکن میں بھی ویسا ہی عذر کرتا ہوں جیسا اس نے کیا اس لئے کہ اس کے اقوال اور اخبار سے فتنے پھیل گئے ہیں۔ سو ضرور ہوا کہ عوض لینے کو آستینیں چڑھا لوں۔اور اب مجھے اس کے سوا چارہ نہیں کہ اس کے راز کی مُہر توڑدوں اور خدا جانتا ہے اس کی نیت کی حقیقت کو اور اس کی نیکی اور بریت کی کیفیت کو۔ پس اگر اپنی باتوں میں اُس نے نیکی کی نیت کی ہوگی تو ضرور عذر خواہی کرے گا اور جنگ و مقابلہ نہ چاہے گا۔اور اگر توہین وتحقیر کا ارادہ کیا ہے توخدا اس میں اور مجھ میں جلد فیصلہ کردے گااور ظالم ہلاک ہوگا۔اور منار کے ایڈیٹر کو کتاب بھیجوں گا یا تو وہ پھر طیش اور اشتعال میں آیا یا عذر معذرت کر دی اور اظہارِ حق لا للاحتقار وکسر الشان۔ ونحا بہ منحٰی نُصرۃ الدین۔ لا لظی التحقیر والتوہین۔ وہل ہو فی ذالک إلا بمنزلۃ حُماۃ الإسلام۔ والدّاعین إلی عزّۃ کلام اللّٰہ العلّام۔ الذی ہو ملک الکلام؟ واللّٰہ یعلم السرّ وما أخفی۔ ولکل امرءٍ ما نوی۔ولکنی مُعتذر کمثل اعتذارہ۔ فإن الفتن قد انتشرت من أقوالہ وأخبارہ۔ فوجب أن اشمر عن ذراعی لثارہ۔ ولم یکن لی بد من أن أفضّ ختم سرّہ۔ واللّٰہ یعلم حقیقۃ نیتہ وکیفیۃ بریّتہ وبرّہ۔ فان کان نوی الخیر فیما قال۔ فسیعتذر ولا یبتغی النضال۔ وإن کان قصد التوہین والاحتقار۔ فسیقضی اللّٰہ بینی وبینہ ومن ظلم فقد بار۔ وإنی سأرسل کتابا إلی مدیر المنار۔ لیُفکّر فیہ حق الافکار۔ فإمّا اکفہرار بعد وإمّا اعتذار۔ وإنّما ہو