جیسی چمک اور آب دکھا سکے۔اور اس پر بھی میرے دل میں کبھی کبھی آتا ہے کہ ممکن ہے کہ منار کا ایڈیٹر ان الزاموں سے بری ہو اور ممکن ہے کہ اس نے حقارت کا اور چارپایوں کی طرح سینگ سے مارنے کا ارادہ نہ کیا ہو بلکہ یہ چاہا کہ ہو خدا کی کلام کو مشابہت اور مماثلت کی ذلت سے بچائے اور اعمال موقوف ہیں نیتوں پر۔پس اگر یہ سچ ہے تو بے شک اس نے ان باتوں سے اپنے لئے بہت سے درجے اکٹھے کر لئے اس لئے کہ کلام اللہ کی محبت جنت میں لے جاتی ہے اور ڈھال کی طرح بچانے والی ہوتی ہے۔اور اس شخص کا گناہ ہی کیا جس نے مجھے گالی دی فرقان کی حمایت کے لئے بریقا کبریق ما فی قرابی۔ ثم مع ذالک تُناجینی نفسی فی بعض الأوقات۔ان من الممکن أن یکون مدیر المنار بریئا من ہذہ الإلزامات۔ ویمکن أنہ ما عمد إلی الاحتقار والنطح کالعجماوات۔ بل أراد أن یعصم کلام اللّٰہ من صغار المضاہات*۔ و إنما الأعمال بالنیّات۔ فإن کان ہذا ہو الحق فلا شکّ أنہ ادّخر لنفسہ بہذہ المقالات۔ کثیرا من الدرجات۔ فإن حُبّ کلام اللّٰہ یُدخل فی الجنّۃ۔ ویکون عاصما کالجُنّۃ۔ وأی ذنب علی الذی سبّنی لحمایۃ الفرقان۔ * الحاشیۃ:واظن انہ استشاط من منع الجھاد۔ووضع الحرب والسیوف الحداد۔وان الوقت وقت اراء ۃ الاٰیات۔لازمان سل المرھفات۔ولاسیف الاسیف الحجج والبینات۔فلاشکّ ان الحرب لاعلاء الدین فی ھٰذہ الاوقات۔من اشنع الجھلات۔ولا اکراہ فی الدین کما لا یخفی علی ذوی الحصات۔منہ۔ ترجمہ حاشیۃ:مجھے تو یقین ہے کہ وہ غضب میں آیا ہے جہاد کے روکنے اور تیزتلواروں اور لڑائی کے دور کردینے سے۔اور اب نشانوں کے دکھانے کا وقت ہے،تلواروں کے کھینچنے کا وقت نہیں اور حجتوں اور بیّن دلیلوں کی تلوارکے سوا کوئی تلوار نہیں۔اس میں شک نہیں کہ ان دنوں میں دین کے لئے لڑائی کرناسخت نادانی ہے اوردین میں کوئی اکراہ نہیں جیسا کہ یہ بات دانشمندوں پر پوشیدہ نہیں۔ منہ