آخر کار قبول کے نشان ظاہر ہوئے اور شک شبہ کا پردہ پھٹ گیا
اور مجھے اِس کتاب کی تالیف کی توفیق بخشی گئی۔ سو میں بعد چھپ جانے اور اس کے بابوں کی تکمیل کے اس کی طرف بھیجوں گا۔پھر اگر منار نے اس کا جواب خوب دیا اور عمدہ ردّکیا تومَیں اپنی کتابیں جلا دوں گا اور اس کے پاؤں چوم لوں گا اور اس کے دامن سے لٹک جاؤں گااور پھر لوگوں کو اس کے پیمانہ سے ناپوں گا۔اور لو میں پروردگار جہان کی قسم کھاتا ہوں اوراس قسم سے عہد کوپختہ کرتاہوں۔اور شریفوں کا زخمی کرنا کلام سے زخم میں سخت تر ہوتا ہے تیروں کے زخم سے۔بلکہ نیزہ اور تلوار کے ساتھ قتل کرنے سے بڑھ کر ان پر گراں ہوتاہے۔اور یہ پختہ بات ہے کہ نیزوں کے زخم تو مل جاتے ہیں پر کلام کے زخم نہیں ملتے۔لیکن جو اس نے معارف اور فصاحت کادعویٰ کیا ہے جیسا کہ ظاہراً اس کے کلام سے سمجھا جاتا ہے۔یہ اس کا نرا دعویٰ ہی دعویٰ ہے اور ہم اسے مان نہیں سکتے جب تک وہ اپنی بزرگی کا ثبوت نہ دے اور
میرے تو خیال میں بھی نہیں آسکتا کہ منار میری کتاب جیسے معارف لکھ سکے۔ اور میری تلوار
والابتہال۔ حتی بانت أمارۃ الاستجابۃ۔ وانجابت غشاوۃ الاسترابۃ۔ ووُفّقتُ لتألیف ذالک الکتاب۔ فسأرسلہ إلیہ بعد الطبع و
تکمیل الأبواب۔ فإن أتٰی بالجواب الحسن وأحسن الردّ
علیہ۔ فأحرق کتبی وأقبّل قدمیہ۔ وأعلق بذیلہ۔ وأکیل الناس
بکیلہ۔ وہا أنا أقسم بربّ البریّۃ۔ أؤکد العہد لہذہ الألّیۃ۔ و
إن کَلْمَ الأحرار بکلام۔ أشدّ جرحًا من جرح سہام۔ بل ہو
أشق علیہم من قتلہم بلہذم وحسام۔ وإن جراحات السنان
لہا التیام۔ ولا یلتام ما جرح کلامٌ۔ وأمّا ما ادّعی
من المعارف والفصاحۃ۔ کما یُفہم من قولہ بالبداہۃ۔ فہی
مقالۃ ہو قائلہا ولا نقبلہ إلا بعد ثبوت النباہۃ۔ وما اتظنّی
أن یکتب المنار من معارف کمعارف کتابی۔ ویُری