دوست پھر اپنے اپنے قبیلہ میں واپس کئے گئے ہیں اور میں نے محسوس کیا کہ ان کا فتنہ عام لوگوں کو دکھوکے میں ڈال کر سخت ضرر دے گا اور ان باتوں کو وہ بڑی پکی گواہی سمجھیں گے۔ اور بعض جاہلوں کے فریب دینے کو اور بعض کم عقل سادہ لوگوں کے دھوکا دینے کو بس ہے۔پس میں نے اس کا جواب دینا اپنے اُوپر حق واجب سمجھا جس کا بوجھ ادا کئے بغیر اتر نہیں سکتااور لازم قرض یقین کیا جس میں سے ایک حبہ بھی ادا کرنے کے سوا ذمہ سے نہیں اتر سکتا۔
اس لئے کہ عام کے وہموں کو دور کرنا واجبات وقت اور امامت کے فرائض سے ہے۔پھر میں آسمان کی طرف منہ کر کے دیکھنے لگا اور دعا اور زاری سے خدا سے مدد مانگنے لگااس لئے کہ مجھے حجت کو پورا کرنے اور حق کو حق کر دکھانے اور باطل کو نابود کرنے اور رستہ کے واضح کرنے کی راہ بتائے۔ پس میرے دل میں ڈالا گیا کہ مَیں اس غرض کے لئے ایک کتاب بناؤں پھر اُس کی مثل مانگوں اِس ایڈیٹرسے اور ہر ایسے شخص سے جو اُن شہروں سے دشمنی کی غرض سے اٹھے۔اور مَیں خدا کی طرف پورا پورا متوجہ تھا اور زاری اور فریاد کے میدانوں میں دوڑرہا تھا۔
إلی الاحیاء۔وأَحْسَسْتُ أن فتنتہم ہذہ تضر العامۃ کالأغلوطات۔ ویُعدّون ہذہ الأقوال من الشہادات القاطعات۔ وکفی ہذا القدر لخدع بعض الجہلاء ۔ وإغلاط بعض البلہ قلیل الدہاء ۔ فرأیتُ جوابہ علی نفسی حقًّاواجبًا لا یوضع وزرہ بدون القضاء ۔ ودینا لازما
لا یسقط حبۃ منہ بغیر الأداء ۔ فإن دفع أوہام العامۃ من
واجبات الوقت وفرائض الإمامۃ۔ فقلّبتُ وجہی فی السماء ۔ وطلبتُ عون اللّٰہ بالبکاء والدعاء ۔ لیہدینی إلٰی طریق إتمام
الحجّۃ۔ وإحقاق الحق وإبطال الباطل وإیضاح المحجّۃ۔ فأُلقیَ
فی روعی أن أُؤلّف کتابا لہذا المراد۔ ثم أطلب مثلہ من
ہذا المدیر ومن کل من نہض بالعناد من تلک البلاد۔ وکنتُ
أقبل علی اللّٰہ کل الاقبال۔ وأسعی فی میادین التضرّع