کردی ہے۔مجھے صاحب منار کی نسبت نیک گمان تھا۔ اورمیرا خیال تھا کہ اس نے کسی مصلحت سے ایسا کہانہ ضرر دینے کے ارادے سے۔لیکن پیچھے پتا لگا کہ اس نے زبان کو نہیں روکا جیسے کہ بزرگوں کی عادت اور سعید طبیعتوں کا خاصہ ہوتا ہے بلکہ اس نے اپنے
اخبار میں تحقیر پر اصرار کیا۔ پس حاسدوں نے اُس کے منہ کے اُگلے ہوئے زہر کو لذیذ
کھانے کی طرح کھایا اور اُس کی بات کو قبول کیا اور ختم ہو جانے کے بعد نئے سرے جھگڑا
شروع کر دیا جیسے کہ کودن اجڈ طبیعتوں کی عادت ہوتی ہے۔اور انہوں نے منار کی باتوں
کو تیز ہتھیار سمجھااور ہندوستان کے اخباروں میں انہیں شائع کیا۔ اور ایسی باتیں لکھیں
جن کا سننا پاک اوربَری ہمتوں کو سخت ناگوار ہوتا ہے اور میرے دل کودُکھایاجیسے
کہ عادت کمینوں اور نادانوں کی اورسیرت سفلہ دشمنوں کی ہوتی ہے۔اور وہ بڑے گھمنڈسے اتراکراوراکڑکر چلتے تھے گویا انہیں بڑے اعلیٰ درجہ کی خوبصورت پوشاکیں پہنائی
گئی ہیں یا بڑے بڑے شہر ان کے قبضہ میں دیے گئے ہیں یا ان کے مَرے ہوئے
أظن فی صاحب المنار إلا ظنّ الخیر۔ وکنتُ أخال أنہ قال ما قال من مصلحۃ لا من إرادۃ الضیر۔ ولکن ظہر علیّ بعد ذالک أنہ ما کفّ اللسان کما ہو من سیر الکرام والطبائع السعیدۃ۔ بل أصرّ
علی الازدراء فی الجریدۃ۔ فأکل الحاسدون حصیدۃ
لسانہ کالعصیدۃ۔ وتلقّفوا قولہ وجدّدوا الخصومۃ بعد ما
قطعوہا کما ہو من شیم القرائح البلیدۃ۔ وحسبوا کلمہ کالأسلحۃ الحدیدۃ۔ وأشاعوہا فی الأخبار والجوائب الہندیۃ۔ وکتبوا
کل ما یشق سماعہا علی الہمم البریءۃ المبرّء ۃ۔ وآذوا قلبی کما ہی عادۃ الرذل والسفہاء ۔ وسیرۃ الأراذل من الأعداء ۔ وکانوا یمشون مرحا بالخیلاء والامتطاء ۔ کأنہم أُلبِسُوا من حلل الحبر والوشاء ۔ أو فُتِحَت علیہم مدائن أو رُدّ أحیاء ہم المیّتون