آنکھ میں منار کے ایڈیٹر کی بزرگی ہے۔ اور بعض آگ کے لادو ٹٹوؤں نے تو اس کی شہادت کو بڑی وقعت دی ہے اور رات دن اسی کاذکر کرتے ہیں۔سو مجھے بھی ان کی پوشیدہ باتیں پہنچ گئیں۔اور ان کی سازشوں اور مشورتوں کی اطلاع ملی۔اور معلوم ہوا کہ وہ مجھے۱ ہنستے اور اس میں ہر روز ترقی کررہے ہیں۔پس جب میں نے دیکھا کہ وہ جنگل کے سراب پر اور زمین کے سفید سنگریزوں پر دھوکا کھا گئے ہیں اور دشمنی اور بگاڑ میں بڑھ گئے ہیں اور ڈر پیدا ہوا کہ ان کا فتنہ ان شہروں میں پھیل جائے گا۔اور میں نے دیکھاکہ وہ میری طرف حقارت کی آنکھ سے دیکھتے ہیں اور تالیاں بجاتے ہیں اور مجھے ایک کھلونا سمجھتے ہیں۔ اور ہنسی کھیل کے لئے مجھے محبوس کرتے ہیں اورمنار کے کلام کو حیلہ بناتے ہیں میرے جاہل بنانے اور خطاکار ٹھہرانے
اور حقیر جاننے میں تو پھر مَیں نے بھی ایک پورے مجاہد کی طرح کمر کس لی جو کلہاڑا مارتا
ہے اُس شخص کے سرمیں جو دشمنی سے اس پر پتھر پھینکے۔قسم اُس کی جس کی رحمت
اُس کے غضب پر بڑھ گئی ہے۔ اور جس کی مہربانی نے اُس کی تلوار کُند
ولکن رأیت أن صاحب المنار۔ عُظّم فی أعین ہذہ الأشرار۔ و
أکبر شہادتہ بعض زاملۃ النار۔ وکانوا یذکرونہا بالعشی و
الأسحار۔ فبلغنی ما یتخافتون۔ وعثرتُ علی ما یُسرّون و
یأتمرون۔ وأُخبرتُ أنھم یضحکون علیّ وفی کل یوم یزیدون۔
فلما رأیتُ أنہم اغترّوا بلامع القاع۔ ویرامع البقاع۔و زادوا
فی العناد والفساد۔ وخیف أن یعم فتنہم ہذہ البلاد۔ ورأیت
أنہم یروننی بشزر عینیہم۔ ویصفقون بیدیہم۔ ویأخذوننی کالتلعابۃ۔ ویُجعجعون بی للدعابۃ۔ ویجعلون کلام المنار کحیلۃ
للتجہیل والتخطیۃ والاحتقار۔ شمّرت تشمیر من لا
یألو جہادًا۔ ویضع فأسا فی رأس من رمی الجندل عنادًا۔ و
بالذی سبقت رحمتہ غضبہ۔ وفَلّت رأفتہ عضبہ۔ ما کنتُ