اورسر سبز مرغزاروں تک ان کی رسائی کہاں۔یہ لوگ نمکین سجعوں کا لطف اور آراستہ کلموں کی لطافت کو کیا جانیں۔ مُنہ سے کہتے ہیں کہ ہم علماء ہیں مگر علم اور زیرکی ان کے نزدیک نہیں آئی۔
اور اصل میں مجھے اس قصہ کے بیان کرنے اور اپنے رنج کے اظہار کی کوئی ضرورت نہ
تھی اس لئے کہ منار کا ایڈیٹرہی تو کوئی اکیلا نیا بدگو نہیں بلکہ تمام دشمن ایسی ہی توہین کے
عادی ہو رہے ہیں اور ان کی غرض یہ ہے کہ لوگوں کو ہدایت یافتوں کی راہ سے روک کر
حد سے نکل جانے والوں میں شامل کردیں۔اس قسم کے بہت سے لوگ ان جھگڑوں
میں ہیں اور اُن کا نشان یہ ہے کہ دشمنی کے مادہ کے جوش سے اُن کے مُنہ سیاہ اور مسخ
ہوئے ہوئے ہیں اس سے تم ان کو پہچان لوگے۔وہ لوگ میری ایسی ہی تحقیر و تشنیع کرتے
ہیں جیسی منارنے کی۔مگر مَیں ان کی باتوں کی ذرا بھی پروا نہیں کرتا اور یہ کہتا ہوں کہ
جاہل ہیں۔ سر پر کاری ضرب لگی ہے چلائیں نہیں تو کیا کریں اور جب انہیں گمراہی پر اتنا اصرار ہے تو ان سے نیکی کی امید کیا کی جائے۔لیکن میں نے دیکھا کہ ان شریروں کی
المراعی المستعذبۃ۔ لا یعلمون لطف الأساجیع المستملحۃ۔ ولا لطافۃ الکلم الموَشّحۃ۔ یقولون نحن العلماء ۔ ولا یشعرون ما العلم وما الدہاء ۔ وما کان لی حاجۃ إلی ذکر ہذہ القصّۃ۔ وإظہار
ہذہ الغصّۃ۔ لما لم یکن مدیر المنار وحدہ بدعًا من
المزدرین والمحقّرین۔ بل تعوّد العدا کلہم بالتوہین۔
لیصدّوا الناس عن سبیل المہتدین۔ ویُلحقوہم بالمعتدین۔
وتری کثیرا منہم یوجدون فی ہذہ البلاد۔ وتعرفہم بقتر
رہقت وجوہہم من ثور مواد العناد۔ یذکروننی کمثل ما
ذکر۔ ویزدروننی کمثل ما احتقر۔ فلا ألتفت إلیہم ولا إلی
أقوالہم۔ وأعرض عنہم وأقول جہّال یصرخون بما ضُرِبَ علی قذالہم۔ وأی خیر یُرجَی منہم مع إصرارہم علی ضلالہم۔