اس کا میم گِر کر نری نار کی شکل رہ جائے۔ اور ہم تو مدت سے دشمنوں کو بھگا کر لڑائی جھگڑے سے فارغ ہو بیٹھے تھے اور ہمیں ہرایک جنگ میں غلبہ میسر آیا اور ہر ایک جنگ کرنے والا اپنی پوری طاقت ہمارے مقابلہ میں خرچ کر چکا تھا۔ یہاں تک نوبت پہنچ گئی تھی کہ ترکش خالی ہوگئے تھے اور بالکل آرام چین ہوگیا تھا۔سب جھگڑے ٹھنڈے پڑ گئے اور جھگڑنے والے ہٹ ہٹا گئے تھے اور سب جھگڑنے والوں کو خدا نے بھگا دیااور مار ڈالاتھا۔ اب وہ سفلے پھر موت کے بعد جلائے گئے اور منارنے اپنی نکمی باتوں سے انہیں دلیر اور پکا کر دیا۔اب میں دیکھتا ہوں کہ وہ پھر لاف گزاف مارنے لگے اور لڑائی کو تازہ کرنا چاہتے ہیں اور اب لڑائی چاہتے ہیں اور جاہلوں کو دھوکا دینا چاہتے ہیں۔ پھر اپنے شر کی طرف لوٹ چلے ہیں اور منار کی اس ناپاک بات اور کجروی کی وجہ سے ضد میں بڑھ چلے ہیں۔ چنانچہ کچھ اندھوں کو منار کی باتیں بھلی لگیں ہیں اور پہلوں کی طرح کلام کے پرکھنے والے اور جاننے والے کہاں بلکہ یہ لوگ تو جو کچھ حاسدوں مفسدوں سے سن پاتے ہیں اسی کے پیچھے ہوجاتے ہیں۔ان میں اعلیٰ درجہ عبارتوں کے سمجھنے کا ذوق کہاں۔ اور عمدہ یسقط میمہ ویبقی علی صورۃ النار۔ وکنا ہزمنا العدا۔ وفرغنا من الوغی۔ ونابلنا فکان لنا العُلی۔ وبذل الجہد کل من رمَی۔ حتی نثلت الکنائن۔ وفاء ت السکائن۔ ورکدت الزعازع۔ وکف المتنازع۔ وجعل اللّٰہ الہزیمۃ علی کل من بارٰی۔ وأہلک من مارٰی۔ فالآن أُحْیِیَ اللئامُ بعد الممات۔ وشد المنار عضدہم بالخزعبیلات۔ فأری أنہم یتصلّفون ویستأنفون القتال۔ ویبغون النضال۔ ویخدعون الجہّال۔ ورجعوا إلی شرّہم و زادوا ضدّا۔ بما جاء المنار شیئا إدًّا۔ وجاز عن القصد جدّا۔ فأکبر کلمہ حزبٌ من العمین۔ وأین جہابذۃ الکلام کالسابقین۔ بل یتّبعون کل ما یسمعون من الحاسدین المفسدین۔ ولیس فیہم ذواق العبارات المہذّبۃ۔ ولا الأعناق للوصول إلی