اور اس شخص نے کیونکر شر کا قصد کیا جس کا سیاہ داغ کسی عذر و بہانہ سے مٹ نہیں سکتا اور کیونکر ممکن کہ ایسا عالم لائق آدمی کھلی کھلی بری باتیں منہ سے نکالے اور جب خوب ثابت ہوا کہ یہ سب تمہاری کرتوت ہے تومیں نے بھی جنگ کے لئے سازوسامان درست کرلیا اور کہا کہ اپنی جگہ پر کھڑارہ اے سفلہ دشمن کہ میرے مقابل آنا تلواروں سے کٹ جانااور کانٹوں میں پھنس جانا ہے اور مجھے معلوم ہو گیا کہ یہ باتیں تم نے حسد سے کی تھیں واقعات کے اظہار کے لئے نہیں کہیں اس لئے میں تمہاری طرف متوجہ ہوا کہ کہیں تمہاری ان شرارتوں سے لوگ دھوکا نہ کھا جائیں۔ اس لئے کہ ہمارے ملک کے علماء تو میری تحقیر کے لئے بہانہ ڈھونڈتے رہتے ہیں سو جو کچھ تو نے میری تحقیر میں کہا ہے اس سے ان کی جرأت اور بھی بڑھ جائے گی۔اور اگر فساد کا خوف نہ ہوتا تو میں اس معاملہ میں بالکل خاموش رہتا۔ لیکن اب لوگوں کے بگڑ جانے اور شیطان کی وسوسہ اندازی کاڈر ہے اور یہ پختہ بات ہے کہ بعض شہادتیں ضرب میں تلوار سے بھی زیادہ سخت ہوتی ہیں۔اب مجھے خوف ہے کہ منار کی باتوں سے اشتعال بڑھ جائے اور وکیف قصد شرّا لا یزول سوادہ بالمعاذیر۔ وکیف یمکن الجہر بالسوء من مثل ہذا الفاضل النحریر۔ ولما تحقق أنہ منک تقلّدتُ أسلحتی للجہاد۔ وقلتُ مکانک یا ابن العناد۔ فدونی شرط الحداد وخرط القتاد۔ وعلمتُ أنک ما تکلّمتَ بہذہ الکلمات۔ إلا حسدًا من عند نفسک لا لإظہار الواقعات۔ فابتدرتُ قصدَک۔ لئلا یُصدّق الناسُ حسدَک۔ فإن علماء دیارنا ہذہ یستقرون حیلۃ للإزراء ۔ فیستفزّہم ویُجرء ہم علیّ کلما قلتَ للازدراء ۔ ولولا خوف فسادہم لسکتُّ۔ وما تفوّہتُ فی ہذا الأمر وما تجلّدتُ۔ ولکن الآن أخافُ علی الناس۔ وأخشی وسوسۃ الخنّاس۔ وإن بعض الشہادات أبلغ فی الضرب من المرہفات۔ فأخاف أن یتجدّد الاشتعال من کلمات المنار۔ و