کلام کرتے ہو اور تم نے میری کتاب کو اچھی طرح نہیں پڑھا اور نہ ہی اس کے مفردات اور ترکیبوں اور انداز کلام کو غلط ثابت کرکے دکھایا اور تم نے اپنے خدا کو ناراض کیا اور اس کی سزا سے نہیں ڈرے۔اور جھوٹ بول کر لوگوں کو دھوکے میں ڈالا۔ اور شیطان کے پیچھے دوڑ پڑے۔اور کہہ دیا کہ اعجازالمسیح سخت غلطیوں سے بھری ہوئی ہے اور اس کے سجع میں بناوٹ ہے اور لطیف کلام نہیں ہے اور اس کا کلام عرب کے محاورہ کے خلاف ہے۔ آہ میں نے تو تجھے ایسا دوست سمجھا تھا جو مجھے نسیم سحر کی طرح راحت پہنچاتا مگر تو سلاح پوش دشمن نظر آیا اور مجھے خیال تھا کہ تو کبوتر کی طرح پیاری مژدہ رسان آواز میں بولے گا مگر تو نے موت کاسابھیانک چہرہ دکھایا۔ مجھے تمہاری اس بے تحقیق تیز زبانی پر تعجب آیا اس لئے میری وہ حالت ہوئی جو اکیلے سرگرداں مسافر کی رستہ بھول کر ہوا کرتی ہے لیکن میں نے پھربھی اس بات کو دل میں رکھا اور سمجھا کہ شاید تحریر میں کوئی تبدیلی واقع ہوگئی ہو اور توہین اور تحقیر کا کوئی ارادہ نہ ہو۔ والنساء ۔ وما تصفّحت کتابی وغلّطتَ مفرداتہ وتراکیبہ۔ وخطّأت أفانینہ وأسالیبہ۔ وأسخطت حسیبک وما خشیت تعذیبہ۔ وکذّبتَ وأغلطت الناس۔ وخببتَ واتّبعت الخناس۔ وقلتَ کتاب مملوّ من الأغلاط المنکرۃ۔ وفی سجعہ تکلّف وضعف ولیس من الکلم المحبّرۃ۔ والْمُلَح المبتکرۃ۔ ویوجد فیہ رکاکۃ العُجمۃ۔ وحسبتُک حبیبا یُریحنی کنسیم الصباح۔ فتراء یتَ کعدوّ شاکی السلاح۔ وخلتُ أنک تہدّر بصوت مبشر کالحمام۔ فأریتَ وجہک المنکر کالحمام۔ وأعجبنی حِدّتک وشدّتک من غیر التحقیق۔ فأخذنی ما یأخذ الوحید الحائر عند فقد الطریق۔ لکنی أسررتُ الأمر وقلتُ فی نفسی لعلّہ تصحیف فی التحریر۔ وما عمد إلی التوہین والتحقیر۔