میں اس بات میں پشیمان نہیں اس لئے کہ فضیلت پہل کرنے والے کو ہے۔ اورمجھے گمان تھا کہ تمہاری دوستی سے میرا غم دور ہو جائے گااور تمہارے لشکر کی مدد سے میرے اندوہ و غم کا لشکر شکست کھا جائے گا مگر افسوس کہ فراست نے خطا کی اور دانش درست نہ اتری اور تمہاراسارا معاملہ بالکل الٹا نظر آیا۔ یہ توآپ کی فضیلتوں کا تھوڑا سانمونہ ہے۔ اس سے مجھے پتہ مل گیا کہ مصر کی سر زمین سے آتش اشتعال کبھی الگ نہیں ہوئی۔اور اب تک اُس سے کبر اور تعلّی کی آگ جوش زن ہے۔خدا موسیٰ پر رحم کرے کیوں اس نے اسے چھوڑدیا اور اس کا نام و نشان نہ مٹا دیا۔غرض تمہارا دعویٰ ہے کہ میری کتاب سہو و خطا سے بھری ہوئی ہے اور نحویوں اور ادیبوں سے کوئی دلیل تم اس پر نہیں لائے۔ اب مَیں تمہارے جور اور افترا سے خدا کے پاس فریاد کرتا ہوں اس لئے کہ تم نے بے سبب اور بے کسی پہلے بغض و عداوت کی وجہ کے یہ ظلم زیادتی کی۔ کیا تم اپنی اس بولی کو صحت کا معیار ٹھہراتے ہو جس سے تم اپنی بیٹیوں اور جوروؤں سے لستُ فی ہذا القول کالمتندّم۔ فإن الفضل للمتقدّم۔ وکنتُ أتوقع أن یتسرّی بمؤاخاتک ہمّی۔ ویرفض بجندک کتیبۃ غمّی۔ فالأسف کل الأسف أن الفراسۃ أخطأت۔ والرویّۃ ما تحقّقت۔ ووجدتُ بالمعنی المنعکس ریّاک۔ فہذہ نموذج بعض مزایاک۔ وعلمتُ بہ أن تلک الأرض ارض لا یُفارقہا اللظی۔ وتفور منہا إلی ہذا الوقت نار الکبر والعُلَی۔ فعفی اللّٰہ عن موسٰی۔ لم ترکہا وما عَفّی۔ فحاصل الکلام إنک زعمتَ أن کتابی مملوء من السہو والخطاء ۔ وما أتیتَ بدلیل من النحویین أو الأدباء ۔ فأشکو إلی اللّٰہ من جورک ہذا والافتراء ۔ فإنّک شمستَ لی من غیر سبب ومن غیر أسباب البغض والشحناء ۔ أو جعلتَ معیار الصحّۃ لسانک الذی تکلّم بہ عشیرتک من البنات