فریفتہ ہو حال آنکہ اس پر تو بڑی بڑی آندھیاں چل چکی ہیں اور آج تم عجمیوں سے بڑھ کر نہیں۔ سو گذشتہ پر فخر نہ کرو۔ اور تمہاری بولیاں تو بالکل بدل گئیں۔اب تم اتنی دور سے کہاں ایک چیز کو پکڑ سکتے ہو۔کیا تمہیں اپنی بول چال یاد نہیں یا احمقوں کو دھوکا دیتے ہو۔اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارے ملک کو عرب میں شامل نہیں فرمایا۔ پھر خدا اور رسول پر افترا نہ کرو اور مفتری ہمیشہ نامراد رہتا ہے۔ سو اے شیخی باز مجھے تجھ سے کیا کام چل اپنی راہ لے۔ مجھے تو تجھ سے نصرت کی امیدتھی تو الٹا میرے ہی خوار کرنے کو اٹھ کھڑا ہوا۔ اور مجھے تیری طرف سے تکبیر تصدیق اور تقدیس سننے کی توقع تھی تو نے مجھے ناقوسوں کی آوازیں سنادیں اور مَیں نے تیری زمین کو پناہ کے لئے بہت عمدہ جگہ سمجھا تھا مگر تونے مجھے مشت زن یا لکد زن کی طرح زخمی کر دیا اور تو نے اس درندہ طبعی سے فرعونی خصلتوں کا زمانہ مجھے یاد دِلا دیا۔اور بلسانکم وقد ہبّت علیہ صراصر عُظمٰی؟ والیوم لستم إلا کعجمیّ فلا تفخروا بما مضٰی۔ وبُدّلت ألسنکم کل التبدیل فأنی التناوش من مکان أقصٰی؟ أتنسون محاوراتکم أو تخدعون الحمقٰی؟ وإن رسول اللّٰہ وسید الورٰی۔ ما سمّٰی أرضکم ہذہ ارض العرب فلا تفتروا علی اللّٰہ ورسولہ وقد خاب من افتریٰ۔ فدعنی أیہا الفخور من ہذا وامض علی وجہک والسلام علی من اتّبع الہدی۔ وکنتُ رجوتُ أن أجد عندک نصرتی۔ فقمتَ لتندّد بہوانی وذلتی۔ وتوقعتُ أن یصلنی منک تکبیر التصدیق والتقدیس فأسمعتنی أصوات النواقیس۔ وظننتُ أن أرضک للتحصّن أحسن المراکز۔ فجرّحتنی کاللاکز والواکز۔ وذکّرتنی بالنوش والنہش والسبعیۃ۔ نبذًا من أیام الخصائل الفرعونیۃ۔ و