کی طرف رخ نہ کیااور قصد کیا کہ عوام کی نگاہ میں مجھے رنج پہنچائے اور بدنام کرے۔ پس وہ بلند منار سے گرا اور اپنے آپ کو دکھوں میں ڈالا۔اور مجھے سنگریزوں کی طرح پاؤں کے نیچے روندا اور فتنوں کی آگ کو بجھ جانے کے بعد پھر بھڑکایا اور کہا جو کہا اور دانشمندوں کی طرح غور نہیں کی۔ اور زمین کی طرف جھک پڑااور متقیوں کی طرح اوپر کو نہ چڑھا اور اونچا ہونے کے بعد گرا۔اور گرنا تو خود بڑی خوفناک بات ہے۔ پھر اس شخص کا کیا حال جو منار سے گرا۔اور گمراہی کو خریدا اور ہدایت نہ پائی۔ آیا فصاحت و بلاغت میں اسے بڑا کمال حاصل ہے؟عنقریب وہ گریز کر جائے گا اور پھر نظر نہ آئے گا۔یہ پیشگوئی ہے خدا کی طرف سے جو نہاں درنہاں کو جاننے والا ہے۔ وہ متقیوں اور نیکوکاروں کا ساتھ دیتا ہے۔وہ میدانوں میں ان کی مدد کرتا ہے پھر ان ہی کی بات غالب رہتی ہے۔اور ساری بولیاں خدا کی ہیں جسے چاہتا ہے ان سے کافی حصہ عطا کرتا ہے اور اس کے منقطع بندے اس کی روح کی مدد سے بولتے ہیں اور یہ راہِ حق دوسروں کو نہیں دی جاتی۔ اور ہر ایک نور آسمان سے اترتا ہے پھر اے جاہلو تمہارے ہاتھ میں کیاہے۔کیا تم اپنی بولی پر کما ہو سیرۃ الکرام۔ وعَمَدَ إلی أن یُؤلمنی ویفضحنی فی أعین العوام کالأنعام۔ فسقط من المنار المنیع وألقی وجودہ فی الآلام۔ ووطئنی کالحصَی۔ واستوقد نار الفتن وحضَی۔ وقال ما قال وما أمعن کأولی النہٰی۔ وأخلد إلی الأرض وما استشرف کأہل التقی۔ وخرّ بعد ما علا۔ وإن الخرور شیء عظیم فما بال الذی من المنار ہوٰی۔ واشتری الضلالۃ وما اہتدی۔ أم لہ فی البراعۃ یدٌ طُولٰی؟ سیُہزَم فلا یُرَی۔ نبأٌ من اللّٰہ الذی یعلم السرّ وأخفی۔ إنہ مع قوم یتّقونہ ویُحسنون الحسنٰی۔ ینصرہم فی مواطن فتکون کلمتہم ہی العلیا۔ وإن الألسنۃ کلہا للّٰہ فیجعل حظّا منہا لمن شاء وقضٰی۔ وإن عبادہ المنقطعین ینطقون بروحہ ولا یُعطَی لغیرہم ہذا الہُدی۔ وکل نور ینزل من السماء فما بیدکم أیہا النّوکَی؟ أتغترّون