ہیں وہ مراد ضرور پوری ہو گی اور مَیں سمجھا کہ ان میں محقق اور اعلیٰ درجہ کے ادیب ہیں اور مَیں نے خیال کیا کہ وہ سوچنے والے ہیں اور شتاب کار اور بیدادگر نہیں ہیں۔ اس گمان کی بنا پر مَیں نے المنار کے ایڈیٹر اور اس کے ساتھیوں کو اپنی کتاب اعجاز المسیح بھیجی۔ اور غرض یہ تھی کہ اس پر مناسب اور حسب موقعہ تقریظ لکھیں۔ اور مَیں نے شام اور روم اور حرمین کے علماء کو چھوڑ کر انہیں چنا کہ شاید انہی کی وجہ سے میرے فکر اور غم دور ہو جائیں اور دکھ درد کی آگ انہی سے بجھ جائے اور یہی لوگ نیکی اور تقویٰ پر میرے مددگار ہوجائیں۔پھر جب صاحب منار کو میری کتاب پہنچی اور اس کے ساتھ اسے کچھ خط استفسار کے لئے ملے اس نے اس کلام کے پھلوں سے ایک پھل بھی نہ لیااور اس کے عظیم الشان معارف میں سے کسی معرفت سے بھی نفع حاصل نہ کیا اور جیسے کہ اکڑباز حاسدوں کی عادت ہوا کرتی ہے قلم سے زخمی کرنے اور ایذا دینے کی طرف جھک پڑااور تحقیر کرنے لگا اور ایذا دینے لگااور اس تحقیر اور جوش دکھلانے میں ذرا بھی کوتاہی نہ کی اور جیسے کہ بزرگوں کی عادت ہے کرم و اکرام العلم والمثمرین۔ وزعمت أن فیہم قوما یُعدّون من المحققین۔ ومن الأدباء المفصحین۔ وخلتُ أنہم من المتدبّرین۔ ولیسوا من المستعجلین والجائرین۔ فقادنی ہذا الظنّ إلی أن أرسل إلی مدیر ’’المنار‘‘ ورفقتہ کتابی ’’الإعجاز‘‘۔ لیُقرّظوا ویکتبوا علیہ ما لاق وجاز۔ وآثرتہم علی علماء الحرمین والشام والروم۔ لعلّی أسرو بہم غواشی الأفکار والہموم۔ ولاُطفأ بہم ما بی من جمرۃ الأذی۔ ولیُعینونی علی البرّ والتقوی۔ثم لما بلغ کتابی صاحب المنار۔ وبلغہ معہ بعض المکاتیب للاستفسار۔ ما اجتنٰی ثمرۃ من ثمار ذالک الکلام۔ وما انتفع بمعرفۃٍ من معارفہ العظام۔ ومال إلی الکلْمِ والإیذاء بالأقلام۔ کما ہو عادۃ الحاسدین والمستکبرین من الأنام۔ وطفق یؤذی ویُزری غیر وانٍ فی الازراء والالتطام۔ ولا لاوٍ إلی الکرم والإکرام۔