نشانوں کو دیکھتے ہیں پھر انکار کرتے ہیں۔ ان معاملوں میں مَیں اکیلا نہیں بلکہ کوئی ایسا رسول نہیں آیا جس سے لوگوں نے ٹھٹھا نہ کیا ہو۔ یہاں تک کہ تم خود اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہو۔ اورمیں مدتوں سے ان شریروں کا ظلم اِس ملک میں سہتا ہوں۔اور ان کی زیادتی انکار اور تحقیر میں دیکھتا ہوں۔ اور میں تجربہ کر چکا ہوں کہ ان کے دلوں کی سیرت خصومت اور تکبر اور لڑائی ہے اور ان کی فطرتوں کی عادت تکذیب اور اتہام ہے۔ غرض جب مَیں ان سے نا امید ہوا تب میرا دل اور ملکوں کی طرف متوجہ ہوا کہ کہیں مددگار مجھے مل جائیں اور شاید کوئی تقویٰ شعار دل میرے ہاتھ آجائے۔ اتنے میں شام کے علماء اور بزرگ مجھے یاد آگئے اور ارادہ کیا کہ ان کی طرف سے گواہی لینے کے لئے خط بھیجوں اس لئے کہ وہ راستی اور سچائی سے جواب دیں اور حق کو پستی کے گڑھے سے نکال کر اوج پر پہنچا دیں۔ سو مجھے پتہ لگا کہ ان کو دینی مناظرات کی اجازت نہیں اور وہ ان مباحثات سے قانوناً روک دیے گئے ہیں۔ پھر میرے دل میں آیا کہ مصر کے ملک سے اور اس کے دانشمند لوگوں سے جو علوم کی بارش سے سرسبز اور برخوردار ہو رہے
اللّٰہ بأعینہم ثم یُنکرون۔ وما کنتُ متفرّدًا فی ہذا بل ما أتی الناس من رسول إلا کانوا بہ یستہزء ون۔ وہلمّ جرّا إلی ما تشاہدون۔
وإنی رأیتُ دہرًا ظلم ہؤلاء الأشرار فی ہذہ الدیار۔ وآنست غلوّہم فی الانکار والاحتقار۔ وجرّبتُ أن لہم قلوبا سیرتہا اللّد والاحرنجام۔ وفطرۃً شیمتہا التکذیب والاتہام۔ فلما یئست منہم انصرف قلبی إلی بلادٍ أخری۔ لعلّی أری الأنصار أو أجد فیہم قلبًا أتقی۔ فذکرت علماء الشام۔ ومن بہا من الکرام۔ وأردت أن أرسل إلیہم للاستشہاد۔ لیُجیبوا بالصدق والسداد۔ وینقلوا الحق من الوہاد إلی النجاد۔ فأُخبِرتُ أن المناظرات فیہم ممنوعۃ۔ والقوانین
لمنعہا موضوعۃ۔ فذہب وہلی بعد ذالک أن المراد یحصل
من أرض مصر وأہلہا المتفرّسین۔ والمخصبین بعہاد