اور جب انہیں کہا جائے کہ ایمان لاؤ اور اصلاح کرو اور فساد نہ کرو تو کہتے ہیں کہ تم ہی مفسد ہو۔ اور گمراہی کوہدایت اور فساد کو صلاح سمجھتے ہیں اس لئے رجوع نہیں کرتے۔سو اس دن کیا حال ہوگا جب کہ ان کی جانیں نکلیں گی اور ان کی چھپائی ہوئی باتیں ظاہر کی جائیں گی۔اور جب انہیں کہا جائے کہ کیا صدی کا سر نہیں آگیا تو کہتے ہیں ہاں۔تو تُو ان سے کہہ کیا تم ڈرتے نہیں۔ مومنوں اور مکذبوں کی مثال زندہ اور مُردہ کی مثال ہے کیا دونوں مثال میں برابر ہیں۔سو خوشخبری ان کے لئے جنہیں توفیق دی جاتی ہے اور کہتے ہیں کہ تو مرسل نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ اس بات کی تکذیب کرتے ہیں جس کا ان کو علم نہیں سو ان کو پتہ لگ جائے گا۔تصدیق کرنے والے ضرور منصور ہوں گے اور ذلت اور رسوائی کی گرد اُن کے چہروں پر نہ پڑے گی اور نہ انہیں کوئی گھبراہٹ ہوگی۔افسوس کفر کرنے والوں کو نہ خسوف وکسوف نے فائدہ پہنچایا اور نہ دوسرے نشانوں نے بلکہ وہ ٹھٹھا ہی کرتے ہیں۔ پہچانتے ہیں پھر بھی خدا کے دیئے پر بخل کرتے ہیں۔اور ہدایت ان پر واضح ہو گئی پھر بھی راہ نہیں پاتے۔اور تعصب کی رات ان پر پڑی ہوئی ہے اسی میں شام گذارتے ہیں اور اسی میں صبح۔اپنی آنکھوں سے خدا کے وإذا قیل لہم آمنوا وأصلحوا ولا تُفسدوا قالوا بل أنتم مفسدون۔ وحسبوا الغیّ رشدًا والفساد صلاحًا فہم لا یرجعون۔ فکیف إذا زہقت نفوسہم وأُظہِرَ ما کانوا یکتمون؟ وإذا قیل لہم أما جاء رأس الماءۃ قالوا بلی فقل أفلا تتّقون؟ إن مثل المؤمنین والمکذّبین کمثل حیّ ومیّت ہل یستویان مثلا؟ فبشری للذین یُوفّقون۔ وقالوا لستَ مُرسلا بل کذّبوا بما لم یحیطوا بعلمہ فسوف یعلمون۔ إن الذین صدقوا أولئک ہم المنصورون۔ ولا یرہق وجوہہم قتر ولا ذلّۃ ولا ہم یُفزعون۔ إن الذین کفروا ما نفعہم خسوف ولا کسوف ولا آیات أخری بل ہم یستہزء ون۔ یعرفون ثم یبخلون بما آتاہم اللّٰہ من العلم وانکشف علیہم الہدی ثم لا یہتدون۔ وجنّ علیہم لیلٌ من التعصّب فہم فیہ یُمسون ویصبحون۔ یرون آیات