بیخ کنی کی جاتی ہے بلکہ وہ اپنے پروردگار کے سامنے بامراد زندگی بسر کرتے ہیں اور وہ زمین پر حجۃ اللہ اوراہلِ زمین کے حق میں خدا کی رحمت ہوتے ہیں۔ اور دنیا میں ماموروں کے انکار جیسی کوئی شقاوت نہیں اور ان مقبولوں کے مان لینے جیسی کوئی سعادت نہیں۔ اور وہ امن وامان کے قلعہ کی چابی اور داخل ہونے والوں کی پناہ ہیں۔تو پھر کیا حال ہو گا اُس کا جس نے اِس چابی کو کھو دیا اور قلعہ میں داخل نہ ہوا اور باہر نکالے ہوئے لوگوں کے ساتھ مل کر بیٹھ رہا۔ اور فی الحقیقت دو شخص بڑے ہی بدبخت ہیں اور انس و جن میں سے اُن سا کوئی بھی بد طالع نہیں۔ایک وہ جس نے خاتم الانبیاء کو نہ مانا۔دوسرا وہ جو خاتم الخلفاء پر ایمان نہ لایااور انکار کیا اور اکڑ بیٹھا اوراس کی بے ادبی کی اور حیا کی راہ کو چھوڑ دیا اور خدا اور اس کے موعود اہل کا ادب اور پاس نہ کیا اور توہین کو انتہا تک پہنچادیا۔ اگر ایسا نالائق پیدا ہی نہ ہوتا تو اس کے حق میں انجام بد اور خدا کے ناراض کرنے سے بہتر تھا۔ وہ ان گالیوں اور تحقیر کا مزا چکھے گا۔اور وہ گھڑی ضرور آنے والی ہے پر مُہر زدہ دل باز نہیں آتے۔ ویعیشون أمام أعین ربہم فائزین۔ وإنہم حجّۃ اللّٰہ علی الأرض ورحمۃ الحق لأہل الأرضین۔ ولیست شقوۃ فی الدنیا کإنکار المأمورین۔ ولا سعادۃ کقبول ہؤلاء المقبولین۔وإنہم مفتاح حصن الأمن والأمان وحرز الداخلین۔ فما بال الذی فقد ہذا المفتاح وما دخل الحصن وقعد مع المخرجین۔وإن أشقی الناس رجلان۔۔ ولا یبلغ شقاوتہما أحدٌ من الإنس والجان۔ رجلٌ کفر بخاتم الأنبیاء ۔ ورجل آخر ما آمن بخاتم الخلفاء ۔ وأبی واستکبر وأساء الأدب علیہ وترک طریق الحیاء۔ وما تأدّب مع اللّٰہ وأہلہ الموعود وبلّغ التوہین إلی الانتہاء۔ ولو لم یتولّد لکان خیرًا لہ من سوء العاقبۃ وسخط حضرۃ الکبریاء۔ ولسوف یذوق ذواق السب والشتم والازدراء ۔ وإن الساعۃ آتیۃ لا ریب فیہا ثم الذین خُتمت علی قلوبہم لا ینتہون۔