خدا کافروں کے پیچھے پڑا رہتا کسی کو ہلاک کرتا اور کسی کو دفع کرتاہے یہاں تک کہ زمین ان سانپوں اور بچھوؤں سے خالی ہو جاتی ہے اوربرگزیدوں کو امن مل جاتا اور ملت ایسے چیدہ لوگوں سے بھر جاتی ہے جو تاریکی میں چمکدار روشن ستارے ہوتے ہیں اوریہ بڑی بھاری علامت ہے ان لوگوں کی جو خدا کی طرف سے آتے ہیں اور اس جہان میں نازل ہوتے ہیں اس لئے کہ خلقت کو خدا کی طرف کھینچ لے جائیں۔اور خدا ان کے ذریعہ سے تاریکیوں کو پاش پاش کرتا ہے اس لئے کہ ناپاک اور پاک کو آزمائے اور کامیاب اور نامراد کو ظاہر کردے۔سو کوئی سعید بنتا اور اور کوئی شقی بنتا ہے۔ اور کسی کو زندگی بخشی جاتی اور کوئی فنا کر دیا جاتا ہے اور مامور کو نصرت اور مہلت دی جاتی ہے جب تک کہ وہ دشمنوں کی تلوار کی دھار کو کند کردیتا اور اندھیرااُٹھ جاتا اور ہدایت کا آفتاب چڑھ آتا ہے۔غرض خدا کے دوست جھوٹوں کی مانند ہلاک نہیں کیے جاتے اور ان کا انجام مفتریوں کاسا انجام نہیں ہوتا۔بلکہ انہیں بچایا جاتااور قبول کیا جاتا اور نصرت دی جاتی اور کل جہان پر ایثار کیا جاتاہے۔وہ نہ تو ضائع کئے جاتے ہیں اور نہ ان کی بالکافرین یُہلک ہذا ویدفع ذاک حتی تصیر الأرض خالیۃ من تلک الہوام۔ ویحصل الأمن للأبرار الکرام۔ وتحتفل الملّۃ من نخب الإسلام۔ کنجوم منیرۃٍ مُشرقۃ فی الظلام۔ وہذا من أکبر علامات الذین یأتون من حضرۃ العزۃ والجبروت۔ وینزلون إلی الناسوت لیجذبوا خلق اللّٰہ إلی عالم الملکوت واللاہوت۔ وإنّ اللّٰہ یجلو بہم الغیاہب۔ لیبتلی الخبیثین والأطایب۔ ویُرِی الفائز والخائب۔ فتُسعد نفسٌ وأخری تشقی۔ ویُحیٰی أخ وأخ آخر یُفنَی۔ ویُنصر المأمور فی الأرض ویُمہل حتی یفل شبا العدا۔ ویزول الظلام وتطلع شمس الہدی۔فالحاصل أن أولیاء اللّٰہ لا یُہلکون کالکاذبین۔ ولا یکون مآلہم کالمفترین۔ بل یُعصَمون ویُقبلون ویُنصرن ویُؤثرون علی العالمین۔ ولا یُضاعون ولا یُجاحون