پوری قوت اور غلبہ اور چمک کے رنگ میں ظاہر کریں۔اور ان معارف کی حقیقت اور کیفیت اور راہوں اور ان کی شناخت کے نشانوں کو بیان کریں۔اور لوگوں کو بدعتوں اور بدکرداریوں سے اور ان کے طوفان و طغیان سے چھڑائیں۔ اور شریعت کو قائم کریں اور اس کی بساط کو بچھائیں اور افراط و تفریط کو جو اس میں داخل کی گئی ہے دور کریں۔ اور جب خدا اہل زمین کے لئے چاہتا ہے کہ ان کے دین کو سنوارے اور ان کے برہانوں کو روشن کرے اور ہول اور مصیبت کے پیش آنے پر ان کو مدد دے۔تب ان بزرگوں میں سے کسی کو ان میں کھڑا کردیتا ہے اور نشانوں اور قاطع حجتوں سے اس کی تائید کرتا اور نیک بختوں کے سینوں کو اس کے قبول کرنے کے لئے کھول دیتا ہے اور تقویٰ اختیار نہ کرنے والوں پر پلیدی اور ناپاکی پھینکتا ہے۔پھر یوں ہوتا ہے کہ کچھ لوگ تو اس پر ایمان لاتے اور تصدیق کرتے ہیں اور کچھ نہیں مانتے اور تکذیب کرتے ہیں۔اور اس کی راہ میں روک بن جاتے اور دکھ دیتے ہیں اور کسی کو اس کے پاس آنے نہیں دیتے۔آخر کار خدا کی غیرت ان کے نابود کرنے لئے جوش مارتی ہے اس لئے کہ اپنے بندہ کو ان کے حملہ سے چھڑائے۔سو
علی الخلق بسلطانہا۔ وقوّتہا ولمعانہا۔ ویُبیّنوا حقیقتہا وہویّتہا۔ وسُبلہا وآثار عرفانہا۔ ویُخلّصوا الناس من البدعات والسیئات وطوفانہا وطغیانہا۔ ولیُقیموا الشریعۃ ویفرشوا بساطہا۔ ویبسطوا أنماطہا۔ ویُزیلوا تفریطہا وإفراطہا۔ وإذا أراد اللّٰہ لأہل الأرض أن یُصلح دینہم۔ ویُنیر براہینہم۔ أو ینصرہم عند حلول الأہوال والمصائب والآفات۔ أقام بینہم أحدًا من ہذہ السّادات۔ ویُؤیّدہ بالحجج القاطعۃ والآیات۔ ویشرح صدور الأتقیاء لقبولہ ویجعل الرجس علی الذین لا یتّقون۔ ففریق من الناس یؤمنون بہ ویُصدّقون۔ وفریق آخر یکفرون بہ ویُکذّبون۔ ویقعدون بکل صراطٍ ویؤذون۔ ویمنعون کل من دخل علیہ ولا یُخلّصون۔ فتہیج غیرۃ اللّٰہ لإعدامہم۔ لیُنجّی عبدہ من اجلِخمامہم۔ فما زال