ہر قسم کی حمد اُس خدا کے لئے ہے جس نے اپنے دوستوں کو وہ راہ بتائی کہ مُرغ سنگ خوار بھی اس میں بھٹک جاتا ہے اور اُن کے لئے ایسا دن چڑھایا کہ اس میں چمگادڑ کو کچھ نظر نہیں آتا۔اور ایسی راہوں پر انہیں چلایا کہ آنکھوں کی اُونٹنیاں اُن میں کبھی چلی نہیں۔ اور ایسے چشمے ان کے لئے جاری کئے کہ فکروں کے پرندے ان کی طرف راہ نہیں پاسکے۔ اور صلوٰۃ اور سلام خاتم رسل پر جس کی نبوت کے ختم نے چاہا کہ آپ کی اُمت سے نبیوں کی مانند لوگ پیدا ہوں۔اور آپ کے درخت زمانہ کے آخر تک پھلتے پھولتے رہیں اور نہ آپ کے نشان مٹائے جائیں۔ اور نہ آپ کی یاد دنیا سے بھول جائے۔ اسی لئے خدا کی عادت ہیکہ وہ ایسے بندوں کو بھیجا کرتا ہے جنہیں اس دین کی تجدید کے لئے پسند فرما لیتا ہے۔ اور انہیں اپنے حضور سے قرآن کے اسرار عطا کرتا اور حق الیقین تک پہنچاتا ہے۔ اس لئے کہ وہ لوگوں پر حق کے معارف کو الحمد للّٰہ الذی أری أولیاء ہ صراطا یضلّ فیہ الغطاط۔ وجلّی لہم نہارا لا یُبصر فیہ الوطواط۔ وأسلکہم مسالک لم یَرُضْہا مطایا الأبْصار۔ وفجّر لہم ینابیع ما اہتدت إلیہا طیور الأفکار۔ والصلٰوۃ والسلام علی خاتم الرسل الذی اقتضی ختم نبوّتہ۔ أن تُبعث مثل الأنبیاء من أمّتہ۔ وأن تُنَوّر وتُثمر إلی انقطاع ہذا العالم أشجارہ۔ ولا تُعفّی آثارہ۔ و لا تُغیّب تذکارہ۔ فلأجل ذالک جرت عادۃ اللّٰہ أنہ یُرسل عبادًا من الذین استطابہم لتجدید ہذا الدین۔ ویعطیہم من عندہ علم أسرار القرآن ویُبلّغہم إلی حق الیقین۔ لیُظہروا معارف الحق