فرما دیا کہ میں قادیاں کو اس تباہی سے محفوظ رکھوں گا خصوصًا ایسی تباہی سے کہ لوگ کتوں کی طرح طاعون کی وجہ سے مریں یہاں تک کہ بھاگنے اور منتشر ہونے کی نوبت آوے۔ اسی طرح مولوی احمدحسن صاحب کو چاہئے کہ اپنے خدا سے جس طرح ہو سکے امروہہ کی نسبت دعا قبول کرا لیں کہ وہ طاعون سے پاک رہے گا اور اب تک یہ دعا قریب قیاس بھی ہے کیونکہ ابھی تک امروہہ طاعون سے دو سو کوس کے فاصلہ پر ہے لیکن قادیاں سے طاعون چاروں طرف سے بفاصلہ دو کوس آگ لگا رہی ہے یہ ایک ایسا صاف صاف مقابلہ ہے کہ اس میں لوگوں کی بھلائی بھی ہے اور نیز صدق اور کذب کی شناخت بھی۔ کیونکہ اگر مولوی احمدحسن صاحب *** بازی کا مقابلہ کر کے دنیا سے گزر گئے تو اس سے امروہہ کو کیا فائدہ ہو گا۔ لیکن اگر انہوں نے اپنے فرضی مسیح کی خاطر دعا قبول کرا کر خدا سے یہ بات منوا لی کہ امروہہ میں طاعون نہیں پڑے گی تو اس صورت میں نہ صرف ان کو فتح ہو گی بلکہ تمام امروہہ پر ان کا ایسا احسان ہو گا کہ لوگ اس کا شکر نہیں کر سکیں گے۔ اور مناسب ہے کہ ایسے مباہلہ کا مضمون اس اشتہار کے شائع ہونے سے پندرہ دن تک بذریعہ چھپے ہوئے اشتہار کے دنیا میں شائع کر دیں جس کا یہ مضمون ہو کہ میں یہ اشتہار مرزا غلام احمد کے مقابل پر شائع کرتا ہوں جنہوں نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور میں جو مومن ہوں دعا کی قبولیت پر بھروسہ کر کے یا الہام پا کر یا خواب دیکھ کر یہ اشتہار دیتا ہوں کہ امروہہ ضرور بالضرور طاعون کی دست بُرد سے محفوظ رہے گا لیکن قادیاں میں تباہی پڑے گی کیونکہ مفتری کے رہنے کی جگہ ہے۔ اس اشتہار سے غالباً آئندہ جاڑے تک فیصلہ ہو جائے گا یا حد دوسرے تیسرے جاڑے تک اور گو اب مئی کے مہینہ سے سنت اللہ کے موافق ملک میں طاعون کم ہوتی جائے گی اور خدائی روزہ کے دن آتے جائیں گے مگر امید ہے کہ پھر ابتدا نومبر ۱۹۰۲ء سے خداتعالیٰ اپنا روزہ کھولے گا۔ اس وقت معلوم ہو جائے گا کہ اس افطار کے وقت کون کون ملک الموت کے قبضہ میں آیا چونکہ مسیح موعود کی رہائش کے قریب تر پنجاب ہے اور مسیح موعود کی نظر کا پہلا محل