پنجابی ہیں اس لئے اول یہ کارروائی پنجاب میں شروع ہوئی لیکن امروہہ بھی مسیح موعود کی محیط ہمت سے دور نہیں ہے۔ اس لئے اس مسیح کا کافر کش دم ضرور امروہہ تک بھی پہنچے گا یہی ہماری طرف سے دعویٰ ہے اگر مولوی احمدحسن اس اشتہار کے شائع ہونے کے بعد جس کو وہ قسم کے ساتھ شائع کرے گا امروہہ کو طاعون سے بچا سکا اور کم سے کم تینؔ جاڑے امن سے گزر گئے تو میں خداتعالیٰ کی طرف سے نہیں۔ پس اس سے بڑھ کر اور کیا فیصلہ ہو گا۔ اور میں بھی خداتعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں مسیح موعود ہوں اور وہی ہوں جس کا نبیوں نے وعدہ دیا ہے اور میری نسبت اور میرے زمانہ کی نسبت توریت اور انجیل اور قرآن شریف میں خبر موجود ہے کہ اس وقت آسمان پر خسوف کسوف ہو گا اور زمین پر سخت طاعون پڑے گی اور میرا یہی نشان ہے کہ ہر ایک مخالف خواہ وہ امروہہ میں رہتا ہے اور خواہ امرتسر میں اور خواہ دہلی میں اور خواہ کلکتہ میں اور خواہ لاہور میں اور خواہ گولڑہ میں اور خواہ بٹالہ میں۔ اگر وہ قسم کھا کر کہے گا کہ اس کا فلاں مقام طاعون سے پاک رہے گا تو ضرور وہ مقام طاعون میں گرفتار ہو جائے گا کیونکہ اس نے خداتعالیٰ کے مقابل پر گستاخی کی اور یہ امر کچھ مولوی احمدحسن صاحب تک محدود نہیں بلکہ اب تو آسمان سے عام مقابلہ کا وقت آگیا اور جس قدر لوگ مجھے جھوٹا سمجھتے ہیں جیسے شیخ محمدحسین بٹالوی جو مولوی کر کے مشہور ہیں اور پیر مہر علی شاہ گولڑی جس نے بہتوں کو خدا کی راہ سے روکا ہوا ہے اور عبدالجبار اور عبدالحق اور عبدالواحد غزنوی جو مولوی عبداللہ صاحب کی جماعت میں سے ملہم کہلاتے ہیں اور منشی الٰہی بخش صاحب اکونٹنٹ جنہوں نے میرے مخالف الہام کا دعویٰ کر کے مولوی عبداللہ صاحب کو سیّد بنا دیا ہے اور اس قدر صریح جھوٹ سے نفرت نہیں کی اور ایسا ہی نذیر حسین دہلوی جو ظالم طبع اور تکفیر کا بانی ہے۔ان سب کو چاہئے کہ ایسے موقع پر اپنے الہاموں اور اپنے ایمان کی عزت رکھ لیں اور اپنے اپنے مقام کی نسبت اشتہار دے دیں کہ وہ طاعون سے بچایا جائے گا اس میں مخلوق کی سراسر بھلائی اور گورنمنٹ کی خیرخواہی ہے اور ان لوگوں کی عظمت ثابت ہو گی اور ولی سمجھے جائیں گے ورنہ وہ اپنے کاذب اور مفتری ہونے پر مہر لگا دیں گے۔ اور ہم عنقریب انشاء اللہ اس بارے میں ایک مفصل اشتہار شائع کریں گے۔ والسّلام علٰی من اتّبع الھدیٰ۔