دیکھنا کہ کب آسمان سے ابن مریم اترتا ہے سخت جہالت ہے۔ مگر مجھ سے پہلے جو جو علماء اپنی اجتہادی غلطی سے ایسا خیال کرتے رہے کہ ابن مریم آسمان سے آئے گا وہ خدا کے نزدیک معذور ہیں ان کو بُرا نہیں کہنا چاہئے ان کی نیتوں میں فساد نہیں تھا بوجہ بشریت بھول گئے۔ خدا ان کو معاف کرے کیونکہ ان کو علم نہیں دیا گیا تھا اور ان کی اجتہادی غلطی ایسی تھی جیسا کہ داؤد نے غنم القوم کے مسئلہ میں اجتہادی غلطی کی تھی مگر ان کے بیٹے سلیمان کو خدا نے فہم عطا کر دیا تھا جیسا کہ اس کے بارے میں براہین احمدیہ میں آج سے بائیس برس پہلے یہ الہام ففہمناھا سلیمان کتاب کے آخری صفحہ میں موجود ہے اس کے یہ معنے ہیں جیساکہ براہین کے اوپر کے الہامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ کیا یہ معنے قرآن اور حدیثوں کے جو تم کرتے ہو ہمارے پہلے علماء اورا کابر کو معلوم نہ تھے اور تمہیں معلوم ہو گئے۔ اس کا جواب اللہ تعالیٰ یہ دیتا ہے کہ ہاں حقیقت میں یہی ہوا مگر ایسا ہونا بعید نہیں ہے۔ تمہارے علماء تو کچھ نبی نہیں تھے مگر داؤد نے نبی ہو کر ایک فیصلہ دینے میں غلطی کی اور خدا نے سلیمان اس کے بیٹے کو سچے فیصلہ کا طریق سمجھا دیا۔ سو یہ سلیمان جو مسیح موعود بنایا گیا ہے اسی طرح تمہارے بزرگوں کے مقابلہ پر حق بجانب ہے جس طرح سلیمان نبی اس فیصلہ میں اپنے باپ داؤد کے مقابل پر حق بجانب تھا۔
اور اگر مولوی احمدحسن صاحب کسی طرح باز نہیں آتے تو اب وقت آ گیا ہے کہ آسمانی فیصلہ سے ان کو پتہ لگ جائے یعنی اگر وہ درحقیقت مجھے جھوٹا سمجھتے ہیں اور میرے الہامات کو انسان کا افترا خیال کرتے ہیں نہ خدا کا کلام تو سہل طریق یہ ہے کہ جس طرح میں نے خداتعالیٰ سے الہام پا کر کہا ہے انّہ اوی القریۃ لو لا الاکرام لھلک المقام۔ وہ انہ اوی امروھہ۔ لکھ دیں مومنوں کی دعا تو خدا سنتا ہے۔ وہ شخص کیسا مومن ہے کہ ایسے شخص کی دعا اس کے مقابل پر تو سنی جاتی ہے جس کا نام اس نے دجال اور بے ایمان اور مفتری رکھاؔ ہے مگر اس کی اپنی دعا نہیں سنی جاتی۔ پس جس حالت میں میری دعا قبول کر کے اللہ تعالیٰ نے