اس جگہ مولوی احمدحسن صاحب امروہی کو ہمارے مقابلہ کے لئے خوب موقع مل گیا ہے۔ ہم نے سنا ہے کہ وہ بھی دوسرے مولویوں کی طرح اپنے مشرکانہ عقیدہ کی حمایت میں کہ تاکسی طرح حضرت مسیح ابن مریم کو موت سے بچا لیں اور دوبارہ اتار کر خاتم الانبیاء بنادیں بڑی جانکاہی سے کوشش کر رہے ہیں اور ان کو بُرا معلوم ہوتا ہے کہ سورہ نور کی منشاء کے موافق اور صحیح بخاری کی حدیث اِمَامکم مِنکم کے مطابق اور مسلم کی حدیث اَمَّکُم مِنکم کے رو سے اسی امت مرحومہ میں سے مسیح موعود پیدا ہو تاموسوی سلسلہ کے مسیح کے مقابل پر محمدی سلسلہ کا مسیح ظاہر ہو کر نبوت محمدیہ کی شان کو دنیا میں چمکا وے بلکہ یہ مولوی صاحب اپنے دوسرے بھائیوں کی طرح یہی چاہتے ہیں کہ وہی ابن مریم جس کو خدا بنا کر قریبًا پچاس کروڑ انسان گمراہی کے دلدل میں ڈوبا ہوا ہے دوبارہ فرشتوں کے کاندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے اترے اور ایک نیا نظارہ خدائی کا دکھلا کر پچاس کروڑ کے ساتھ پچاس کروڑ اور ملا دے کیونکہ آسمان پر چڑھتے ہوئے تو کسی نے نہیں دیکھا تھا وہی مقولہ تھا کہ پیراں نہ مے پرند مریداں مے پرانند۔ مگر اب تو ساری دنیا فرشتوں کے ساتھ اترتے دیکھے گی اور پادری لوگ آ کر مولویوں کا گلا پکڑ لیں گے کہ کیا ہم کہتے تھے یا نہیں کہ یہی خدا ہے۔ اس منحوس دن میں اسلام کا کیا حال ہو گا۔ کیا اسلام دنیا میں ہوگا؟ *** اللّٰہ علی الکاذبین۔ جو شخص کشمیر سری نگر محلہ خان یار میں مدفون ہے اس کو ناحق آسمان پر بٹھایا گیا۔ کس قدر ظلم ہے۔ خداتو بپابندی اپنے وعدوں کے ہر چیز پر قادر ہے لیکن ایسے شخص کو کسی طرح دوبارہ دنیا میں نہیں لا سکتا جس کے پہلے فتنے نے ہی دنیا کو تباہ کر دیا ہے۔ یہ مولوی اسلام کے نادان دوست کیا جانتے ہیں کہ ایسے عقیدوں سے کس قدر عیسائیوں کو مدد پہنچ چکی ہے۔ اب خداتعالیٰ کوئی نئی عظمت ابن مریم کو دینا نہیں چاہتا بلکہ یہاں تک کہ جس قدر پہلے اس سے حضرت مسیح کی نسبت اطراء کیا گیا ہے وہ بھی خدا کو سختؔ ناگوار گزرا ہے اور اسی وجہ سے اس کو کہنا پڑا 33 ۱؂۔ اب آسمان کی طرف