تو کچھ تعجب نہیں کہ اِس معجزہ نما جانور کی گورنمنٹ جان بخشی کر دے۔ اِسی طرح عیسائیوں کو چاہیئ کہ کلکتہ کی نسبت پیشگوئی کر دیں کہ اس میں طاعون نہیں پڑے گی کیونکہ بڑا بشپ برٹش انڈیا کا کلکتہ میں رہتا ہے۔ اِسی طرح میاں شمس الدین اور اُن کی انجمن حمایت اسلام کے ممبروں کو چاہیئ کہ لاہور کی نسبت پیشگوئی کر دیں کہ وہ طاعون سے محفوظ رہے گا۔ اور منشی الہٰیؔ بخش اکونٹنٹ جو الہام کا دعویٰ کرتے ہیں اُن کے لئے بھی یہی موقع ہے کہ اپنے الہام سے لاہور کی نسبت پیشگوئی کر کے انجمن حمایت اسلام کو مدد دیں۔ اور مناسب ہے کہ عبد الجبار اور عبد الحق شہر امرتسر کی نسبت پیشگوئی کر دیں اور چونکہ فرقہ وہابیہ کی اصل جڑ دِلّی ہے اس لئے مناسب ہے کہ نذیر حسین اور محمد حسین دِلّی کی نسبت پیشگوئی کریں کہ وہ طاعون سے محفوظ رہے گی۔ پس اس طرح سے گویا تمام پنجاب اِس مُہلک مرض سے محفوظ ہو جائے گا۔ اور گورنمنٹ کو بھی مفت میں سبکدوشی ہو جائے گی۔ اور اگر ان لوگوں نے ایسا نہ کیا تو پھر یہی سمجھا جائے گا کہ سچا خدا وہی خداہے جس نے قادیاں میں اپنا رسول بھیجا۔
اور بالآخر یاد رہے کہ اگر یہ تمام لوگ جن میں مسلمانوں کے مُلہم اور آریوں کے پنڈت اور عیسائیوں کے پادری داخل ہیں چُپ رہے تو ثابت ہو جائے گا کہ یہ سب لوگ جُھوٹے ہیں اور ایک دن آنے والا ہے جو قادیاں سُورج کی طرح چمک کر دکھلادے گی کہ وہ ایک سچے کا مقام ہے۔ بالآخر میاں شمس الدین صاحب کو یاد رہے کہ آپ نے جو اپنے اشتہار میں آیت 33 ۱ لکھی ہے اور اس سے قبولیّت دُعاکی اُمید کی ہے۔ یہ اُمید صحیح نہیں ہے کیونکہ کلام الہٰی میں لفظ مضطر سے وہ ضرر یافتہ مُراد ہیں جو محض ابتلا کے طور پر ضرر یافتہ ہوں نہ سزا کے طور پر لیکن جو لوگ سزا کے طور پر کسی ضرر کے تختہ مشق ہوں وہ اس آیت کے مصداق نہیں ہیں ورنہ لازم آتا ہے کہ قوم نوح اور قوم لوط اور قوم فرعون وغیرہ کی دعائیں اس اضطرار کے وقت میں قبول کی جاتیں مگر ایسا نہیں ہوا اور خدا کے ہاتھ نے اُن قوموں کو ہلاک کر دیا۔ اور