نہیں ہوتا کہ ایک رسول کے انکار سے دُنیا میں کوئی تباہی بھیجی جائے بلکہ اگر لوگ شرافت اور تہذیب سے خدا کے رسولوں کا انکار کریں اور دست درازی اور بد زبانی نہ کریں تو اُن کی سزا قیامت میں مقرر ہے۔ اور جس قدر دنیامیں رسولوں کی حمایت میں مَرِی بھیجی گئی ہے وہ محض انکار سے نہیں بلکہ شرارتوں کی سزا ہے۔ اِسی طرح اب بھی جب لوگ بد زبانی اور ظلم اور تعدّی اور اپنی خباثتوں سے باز آ جائیں گے اور شریفانہ برتاؤ اُن میں پیدا ہو جائے گا۔ تب یہ تنبیہ اُٹھا لی جائے گی مگر اِس تقریب پر بہت سے سعاؔ دت مند خدا کے رسول کو قبول کر لیں گے اور آسمانی برکتوں سے حصّہ لیں گے اور زمین سعادتمندوں سے بھر جائے گی(۳) تیسری بات جو اس وحی سے ثابت ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ بہر حال جب تک کہ طاعون دنیا میں رہے گو ستر برس تک رہے قادیاں کواس کی خوفناک تباہی سے محفوظ رکھے گا کیونکہ یہ اُس کے رسول کا تخت گاہ ہے اور یہ تمام امتوں کے لئے نشان ہے۔
اَب اگر خدا تعالیٰ کے اِس رسول اور اس نشان سے کسی کو انکار ہو اور خیال ہو کہ فقط رسمی نمازوں اور دعاؤں سے یا مسیح کی پرستش سے یا گائے کے طفیل سے یا ویدوں کے ایمان سے باوجود مخالفت اور دشمنی اور نا فرمانی اِس رسول کے طاعون دُور ہو سکتی ہے تو یہ خیال بغیر ثبوت کے قابل پذیرائی نہیں ۔ پس جو شخص ان تمام فرقوں میں سے اپنے مذہب کی سچائی کا ثبوت دینا چاہتا ہے تو اب بہت عمدہ موقع ہے۔ گویا خدا کی طرف سے تمام مذاہب کی سچائی یا کذب پہچاننے کے لئے ایک نمایش گاہ مقرر کیا گیا ہے۔ اور خدا نے سبقت کر کے اپنی طرف سے پہلے قادیاں کا نام لے دیا ہے۔ اب اگر آریہ لوگ وید کو سچا سمجھتے ہیں تو اُن کو چاہیئ کہ بنارس کی نسبت جو وید کے درس کا اصل مقام ہے ایک پیشگوئی کر دیں کہ اُن کا پرمیشر بنارس کو طاعون سے بچا لے گا۔ اور سناتن دھرم والوں کو چاہیئ کہ کسی ایسے شہر کی نسبت جس میں گائیاں بہت ہوں مثلاً امرتسر کی نسبت پیشگوئی کر دیں کہ گؤ کے طفیل اس میں طاعون نہیں آئے گی اگر اس قدر گؤ اپنا معجزہ دکھاوے