اگر میاں شمس الدین کہیں کہ پھر ان کے مناسب حال کون سی آیت ہے تو ہم کہتے ہیں کہ یہ آیت مناسب حال ہے کہ 3 ۱؂۔ اور ؔ چونکہ احتمال ہے کہ بعض غبی الطبع اِس اشتہار کا اصل منشاء سمجھنے میں غلطی کھائیں اس لئے ہم مکررًا اپنے فرض دعوت کا اظہار کر دیتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ یہ طاعون جو مُلک میں پھیل رہی ہے کسی اور سبب سے نہیں بلکہ ایک ہی سبب ہے اور وہ یہ کہ لوگوں نے خدا کے اس موعود کے ماننے سے انکار کیا ہے جو تمام نبیوں کی پیشگوئی کے موافق دنیا کے ساتویں ہزار میں ظاہر ہوا ہے اور لوگوں نے نہ صرف انکار بلکہ خدا کے اِس مسیح کو گالیاں دیں کافر کہا اور قتل کرنا چاہا اور جوکچھ چاہا اُس سے کیا۔ اس لئے خدا کی غیرت نے چاہا کہ اُن کی اِس شوخی اور بے ادبی پر اُن پر تنبیہ نازل کرے اور خدا نے پہلے پاک نوشتوں میں خبر دی تھی کہ لوگوں کے انکار کی وجہ سے اُن دنوں میں جب مسیح ظاہر ہو گا مُلک میں سخت طاعون پڑے گی۔ سو ضرور تھا کہ طاعون پڑتی۔ اور طاعون کا نام طاعون اس لئے رکھا گیا کہ یہ طعن کرنے والوں کا جواب ہے۔ اور بنی اسرائیل میں ہمیشہ طعن کے وقت میں ہی پڑا کرتی تھی اور طاعون کے لغت عرب میں معنے ہیں بہت طعن کرنے والا۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ طاعون طعن تشنیع کی ابتدائی حالت میں نہیں پڑتی بلکہ جب خدا کے مامور اور مرسل کو حد سے زیادہ ستایا جاتا ہے اور توہین کی جاتی ہے تو اُس وقت پڑتی ہے۔ سو اے عزیزو اِس کا بجز اس کے کوئی بھی علاج نہیں کہ اِس مسیح کو سچے دل اور اخلاص سے قبول کر لیا جاوے۔ یہ تو یقینی علاج ہے اور اس سے کمتر درجہ کا یہ علاج ہے کہ اس کے انکار سے منہ بند کر لیا جائے اور زبان کو بدگوئی سے روکا جائے۔ اور دل میں اس کی عظمت بٹھائی جائے۔ اور مَیں سچ سچ کہتا ہوں کہ وہ وقت آتا ہے بلکہ قریب ہے کہ لوگ یہ کہتے ہوئے کہ یا مسیح الخلق عدوانا میری طرف دوڑیں گے۔ یہ جو مَیں نے ذِکر کیا ہے۔