انی انا الرحمٰن دافع الاذی۔ انی لا یخاف لديّ المرسلون۔ انی حفیظ۔ انی مع الرسول اقوم۔ والوم من یلوم۔ افطر و اصوم۔ غضبت غضبًا شدیدًا۔ الامراض تشاع۔ والنفوس تضاع۔ الا الذین اٰمنوا ولم یلبسوا ایمانہم بظلم اولٰئک لھم الا من و ھم مھتدون۔ انّا نأتی الارض ننقصھا من اطرافھا۔ انی اجھزالجیش فاصبحوا فی دارھم جاثمین۔ سنریھم اٰیتنا فی الاٰفاق و فی انفسھم نصر من اللّٰہ و فتح مبین۔ انی بایعتک بایعنی ربّی۔ انت منّی بمنزلۃ اولادی* انت منّیؔ و انا منک۔ عسٰی ان یبعثک ربّک مقامًا محمودًا۔ الفوق معک والتحت مع اعداء ک فاصبر حتّٰی یأتی اﷲ بأمرہ۔ یأتی علی جھنم زمان لیس فیھا احد۔ ترجمہ۔ خدا ایسا نہیں کہ قادیاں کے لوگوں کو عذاب دے حالانکہ تو اُن میں رہتا ہے۔ وہ اس گاؤں کو طاعون کی دست برد اور اس کی تباہی سے بچالے گا۔ اگر تیرا پاس مجھے نہ ہوتا اور تیرا اکرام مدِّ نظر نہ ہوتا تو میں اِس گاؤں کو ہلاک کر دیتا۔ مَیں رحمان ہوں جو دُکھ کو دُور کرنے والا ہے۔ میرے رسولوں کو میرے پاس کچھ خوف اور غم نہیں مَیں نگہ رکھنے والا ہوں۔ مَیں اپنے رسول کے ساتھ کھڑا ہوں گا اور اُس کو ملامت کروں گا جو میرے رسول کو ملامت کرتا ہے ۔مَیں اپنے وقتوں کو تقسیم کر دوں گا کہ کچھ حصہ برس کا تو
* یاد رہے کہ خدا تعالیٰ بیٹوں سے پاک ہے نہ اُس کا کوئی شریک ہے اور نہ بیٹا ہے اور نہ کسی کوؔ حق پہنچتا ہے کہ وہ یہ کہے کہ مَیں خدا ہوں یا خدا کا بیٹا ہوں ۔لیکن یہ فقرہ اس جگہ قبیل مجاز اور استعارہ میں سے ہے۔ خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو اپنا ہاتھ قرار دیا اور فرمایا 3 ۱ ایسا ہی بجائے قل یا عباد اللّٰہ کے 3۲ بھی کہا اور یہ بھی فرمایا 3 ۳ پس اُس خدا کے کلام کو ہشیاری اور احتیاط سے پڑھواور از قبیل متشابہات سمجھ کر ایمان لاؤ اور اس کی کیفیت میں دخل نہ دو اور حقیقت حوالہ بخدا کرو اور یقین رکھو کہ خدا ا تخاذ ولدسے پاک ہے تا ہم متشابہات کے رنگ میں بہت کچھ اس کے کلام میں پایا جاتا ہے۔ پس اس سے بچو کہ متشابہات کی پیروی کرو اور ہلاک ہو جاؤ۔اور میری نسبت بیّنات میں سے یہ الہام ہے جو براہین احمدیہ میں درج ہے۔ قل انّما انا بشر مثلکم یُوحٰی اليّ انّما الٰھکم اٰلہ واحد والخیرکلہ فی القراٰن ۔ منہ