میں افطار کروں گا یعنی طاعون سے لوگوں کو ہلاک کروں گا اور کچھ حصّہ برسؔ کا مَیں روزہ رکھوں گا۔ یعنی امن رہے گا اور طاعون کم ہو جائے گی یا بالکل نہیں رہے گی۔ میرا غضب بھڑک رہا ہے بیماریاں پھیلیں گی اور جانیں ضائع ہو ں گی مگر وہ لوگ جو ایمان لائیں گے اور ایمان میں کچھ نقص نہیں ہو گا وہ امن میں رہیں گے اور اُن کو مَخلصی کی راہ ملے گی۔ یہ خیال مت کرو کہ جرائم پیشہ بچے ہوئے ہیں ہم اُن کی زمین کے قریب آتے جاتے ہیں۔ میں اندر ہی اندر اپنا لشکر طیار کر رہا ہوں یعنی طاعونی کیڑوں کو پرورش دے رہا ہوں پس وہ اپنے گھروں میں ایسے سو جائیں گے جیسا کہ ایک اُونٹ مر ا رہ جاتا ہے۔ ہم اُن کو اپنے نشان پہلے تو دُور دُور کے لوگوں میں دکھائیں گے اور پھر خود انہی میں ہمارے نشان ظاہر ہوں گے یہ دن خدا کی مدد اور فتح کے ہوں گے۔ مَیں نے تُجھ سے ایک خرید و فروخت کی ہے یعنی ایک چیز میری تھی جس کا تُو مالک بنایا گیا اور ایک چیز تیری تھی جس کا مَیں مالک بن گیا۔ تُو بھی اس خرید و فروخت کا اقرار کر اور کہہ دے کہ خُدا نے مجھ سے خرید و فروخت کی۔ تو مجھ سے ایسا ہے جیسا کہ اولاد۔ تو مجھ میں سے ہے اور مَیں تجھ میں سے ہوں۔ وہ وقت قریب ہے کہ مَیں ایسے مقام پر تجھے کھڑا کروں گا کہ دنیا تیری حمدو ثنا کرے گی۔ فوق تیرے ساتھ ہے اور تحت تیرے دشمنوں کے ساتھ۔ پس صبر کر جب تک کہ وعدہ کا دِن آ جائے۔ طاعون پر ایک ایسا وقت بھی آنے والا ہے کہ کوئی بھی اس میں گرفتار نہیں ہو گا یعنی انجام کار خیرو عافیت ہے۔*
*حاشیہ۔ مدّت ہوئی کہ پہلے اس سے طاعون کے بارے میں حکایتاً عن الغیر خدا نے مجھے یہ خبر دی تھی یا مسیح الخلق عدوانا۔ مگر آج کہ ۲۱؍اپریل ۱۹۰۲ء ہے اُسی الہام کو پھر اِس طرح فرمایا گیا یا مسیح الخلق عدوانا لن تریٰ من بعد موادنا و فسادنا۔ یعنی اے خدا کے مسیح جو مخلوق کی طرف بھیجا گیاہماری جلد خبر لے اور ہمیں اپنی شفاعت سے بچا تو اس کے بعد ہمارے خبیث مادوں کو نہیں دیکھے گا اور نہ ہمارا فساد کچھ فساد باقی رہے گا یعنی ہم سیدھے ہو جاویں گے اور گندہ دہانی اور بد زبانی چھوڑ دیں گے۔ یہ خدا کا کلام براہین احمدیہ کے اُس الہام کے مطابق ہے کہ آخری دنوں میں ہم لوگوں پر طاعون بھیجیں گے جیساکہ فرمایا کذالک مننّا علٰی یوسف لنصرف عنہالسوء و الفحشآء یعنی ہم طاعون کے ساتھ اس یوسف پر یہ احسان کریں گے کہ بد زبان لوگوں کا مُنہ بند کر دیں گے تا کہ وہ ڈر کر گالیوں سے باز آ جائیں۔ انہی دنوں کے متعلق خدا کا یہ کلام ہے جس میں زمین کی کلام سے