سمجھو کہ قادیان اِسی لئے محفوظ رکھی گئی کہ وہ خدا کا رسول اور فرستادہ قادیان میں تھا۔ اَب دیکھو تین برس سے ثابت ہو رہا ہے کہ وہ دونوں پہلو پورے ہو گئے یعنی ایک طرف تمام پنجاب میں طاعون پھیل گئی اور دوسری طرف باوجود اس کہ کے قادیاں کے چاروں طرف دو۲ دو ۲ میل کے فاصلہ پر طاعون کا ؔ زور ہو رہا ہے مگر قادیاں طاعون سے پاک ہے بلکہ آج تک جو شخص طاعون زدہ باہر سے قادیاں میں آیا وہ بھی اچھا ہو گیا۔ کیا اس سے بڑھ کر کوئی اور ثبوت ہو گا کہ جو باتیں آج سے چار برس پہلے کہی گئی تھیں وہ پوری ہو گئیں بلکہ طاعون کی خبر آج سے بائیس برس پہلے براہین احمدیہ میں بھی دی گئی ہے*اور یہ علم غیب بُجز خدا کے کسی اور کی طاقت میں نہیں۔ پس اِس بیماری کے دفع کے لئے وہ پیغام جو خدا نے مجھے دیا ہے وہ یہی ہے کہ لوگ مجھے سچے دل سے مسیح موعود مان لیں۔ اگر میری طرف سے بھی بغیر کسی دلیل کے صرف دعویٰ ہوتا ۔ جیسا کہ میاں شمس الدین سکریٹری حمایت اسلام لاہور نے اپنے اشتہار میں یا پادری وائٹ بریخت صاحب نے اپنے اشتہار میں کیا ہے تو مَیں بھی ان کی طرح ایک فضول گو ٹھہرتا لیکن میری وہ باتیں ہیں جن کو مَیں نے قبل از وقت بیان کیا اور آج وہ پوری ہو گئیں اور پھر اس کے بعد ان دنوں میں بھی خدا نے مجھے خبر دی۔ چنانچہ وہ عزّ وجلّ فرماتا ہے:۔ ما کان اللّٰہ لیعذّبھم و انت فیھم انہ اوی القریۃ۔ لولا الاکرام لھلک المقام۔ *حاشیہ۔آج سے دس برس پہلے ایک سبز اشتہار میں جو میری طرف سے شائع ہوا تھا طاعون کی خبر دی گئی تھی اور وہ یہ ہے۔ اصنع الفلک باعیننا و وحینا ان الذین یبایعونک انما یبایعون اللّٰہ ید اللّٰہ فوق ایدیہم یعنی ایک کشتی میرے حکم اور آنکھوں کے رُو برو بنا جو آنے والی مَری سے بچائے گی جو لوگ تجھ سے بیعت کرتے ہیں وہ مجھ سے بیعت کرتے ہیں یہ تیراہاتھ نہیں بلکہ میرا ہاتھ ہے جو اُن کے ہاتھوں پر رکھا جاتا ہے اور اسی کلام الہٰی کا ایک فقرہ براہین احمدیہ میں بطور پیشگوئی موجود ہے اور وہ یہ ہے۔ ولا۔تخاطبنی فی الذین ظلموا انھم مغرقون یعنی جو لوگ ظلم اور سر کشی اور بد کاری اور نافرمانی سے باز نہیں آتے میرے آگے اُن کی کچھ شفاعت نہ کر کیونکہ وہ غرق کئے جاویں گے۔ منہ