وہ بات قبول کے لائق ہے جو جلد تر سمجھ میں آ سکتی ہے اور جو اپنے ساتھ کوئی ثبوت رکھتی ہے سو مَیں وہ بات مع ثبوت پیش کرتا ہوں۔ چار سال ہوئے کہ مَیں نے ایک پیشگوئی شائع کی تھی کہ پنجاب میں سخت طاعون آنے والی ہے اور مَیں نے اِس ملک میں طاعون کے سیاہ درخت دیکھے ہیں جو ہر ایک شہر اور گاؤں میں لگائے گئے ہیں۔ اگر لوگ توبہ کریں تو یہ مرض دو جاڑہ سے بڑھ نہیں سکتی خدا اِس کو رفع کر دے گا۔ مگر بجائے توبہ کے مجھ کو گالیاں دی گئیں اور سخت بد زبانی کے اشتہار شائع کئے گئے جس کا نتیجہ طاعون کی یہ حالت ہے جو اَب دیکھ رہے ہو۔ خدا کی وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوئی۔ اس کی یہ عبارت ہے۔ اِنَّ اللّٰہَ لَایُغَیِّرُ مَا بِقَومٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مآ بِاَنْفُسِہِمْ اِنَّہٗ اَوَی الْقَرْیَۃَ۔ یعنی خدا نے یہ ارادہ فرمایا ہے کہ اِس بلائے طاعون کو ہر گز دُور نہیں کرے گا جب تک لوگ اُن خیالات کو دُور نہ کر لیں جو اُن کے دِلوں میں ہیںیعنی جب تک وہ خدا کے مامور اور رسول کو مان نہ لیں تب تک طاعون دُور نہیں ہو گی اور وہ قادر خدا قادیان کو طاعون کی تباہی* سے محفوظ رکھے گا تا تم
* حاشیہ اَوٰیعربی لفظ ہے جس کے معنے ہیں تباہی اور انتشار سے بچانا اور اپنی پناہ میں لے لینا۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ طاعون کی قسموں میں سے وہ طاعون سخت بربادی بخش ہے جس کا نام طاعون جارف ہے۔ یعنی جھاڑو دینے والی جس سے لوگ جابجا بھاگتے ہیں اور کتّوں کی طرح مرتے ہیں۔ یہ حالت انسانی برداشت سے بڑھ جاتی ہے۔ پس اس کلام الٰہی میں یہ وعدہ ہے کہ یہ حالت کبھی قادیاں پر وارد نہیں ہو گی۔ اسی کی تشریح یہ دوسرا الہام کرتا ہے کہ لولا الاکرام لھلک المقام۔ یعنی اگرمجھے اس سلسلہ کی عزّت ملحوظ نہ ہوتی تو میں قادیاں کو بھی ہلاک کر دیتا۔ اس الہام سے دو باتیں سمجھی جاتی ہیں (۱) اوّل یہ کہ کچھ حرج نہیں کہ انسانی برداشت کی حد تک کبھی قادیاں میں بھی کوئی واردات شاذو نادر طور پر ہو جائے جو بربادی بخش نہ ہو اور موجب فرار و انتشار نہ ہو کیونکہ شاذو نادر معدوم کا حکم رکھتا ہے۔ (۲)دُوسری یہ کہ یہ امر ضروری ہے کہ جن دیہات اور شہروں میں بمقابلہ قادیان کے سخت سرکش اور شریر اورظالم اور بدچلن اور مفسد اور اس سلسلہ کے خطرناک دشمن رہتے ہیں اُن کے شہروں یا دیہات میں ضرور بردباری بخش طاعون پھوٹ پڑے گی یہاں تک کہ لوگ بے حواس ہو کر ہر طرف بھاگیں گے ہم نے اَوَی کا لفظ جہاں تک وسیع ہے اُس کے مطابق یہ معنے کر دئیے ہیں اور ہم دعوے سے لکھتے ہیں کہ قادیاں میں کبھی طاعون جارف نہیں پڑے گی جو گاؤں کو ویران کرنے والی اور کھا جانے والی ہوتی ہے مگر اس کے مقابل پردُوسرے شہروں اور دیہات میں جو ظالم اور مفسد ہیں ضرور ہولناک صورتیں پیدا ہوں گی۔ تمام دُنیا میں ایک قادیاں ہے جس کے لئے یہ وعدہ ہوا۔ فالحمد ﷲ علٰی ذالک۔ منہ