یعنی ائمہ اہل بیت کی محبت کو پرستش کی حد تک پہنچا دینا اور صحابہ رضی اﷲ عنہم کو گالیاں دیتے رہنا اس سے بہتر کوئی علاج نہیں اور مَیں نے سُنا ہے کہ بمبئی میں جب طاعون شروع ہوئی ہے تو پہلے لوگوں میں یہی خیال پیدا ہوا تھا کہ یہ امام حسین کی کرامت ہے کیونکہ جن ہندوؤں نے شیعہ سے کچھ تکرار کیا تھا اُن میں طاعون شروع ہو گئی تھی۔ پھر جب اسی مرض نے شیعہ میں بھی قدم رنجہ فرمایا تب تو یا حسین کے نعرے کم ہو گئے۔ یہ تو مسلمانوں کے خیالات ہیں جو طاعون کے دُور کرنے کے لئے سوچے گئے ہیں۔ اور عیسائیوں کے خیالات کے اظہار کے لئے ابھی ایک اشتہار پادری وائٹ بریخت صاحب اور اُن کی انجمن کی طرف سے نکلا ہے اور وہ یہ کہ طاعون کے دُور کرنے کے لئے اور کوئی تدبیر کافی نہیں بجز اس کے کہ حضرت مسیح کو خدا مان لیں اور اُن کے کفارہ پر ایمان لے آویں۔ اور ہندوؤں میں سے آریہ دھرم کے لوگ پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ یہ بلائے طاعون ویدکے ترک کرنے کی وجہ سے ہے۔ تمام فرقوں کو چاہیئ کہ ویدوں کی ستّ وِدّیا پر ایمان لاویں اور تمام نبیوں کو نعوذ باﷲ مُفتری قرار دے دیں تب اِس تدبیر سے طاعون دُور ہو جائے گی۔ اور ہندوؤں میں سے جو سناتن دھرم فرقہ ہے اُس فرقہ میں دفع طاعون کے بارے میں جو رائے ظاہر کی گئی ہے اگر ہم پرچہ اخبار عام نہ پڑھتے تو شاید اس عجیب رائے سے بے خبر رہتے اور وہ رائے یہ ہے کہ یہ بلائے طاعون گائے کی وجہ سے آئی ہے۔ اگر گورنمنٹ یہ قانون پاس کر دے کہ اِس مُلک میں گائے ہرگز ہر گز ذبح نہ کی جائے تو پھر دیکھئے کہ طاعون کیونکر دفع ہو جاتی ہے۔ بلکہ اسی اخبار میں ایک جگہ لکھا ہے کہ ایک شخص نے گائے کو بولتے سُنا کہ وہ کہتی ہے کہ میرؔ ی وجہ سے ہی اِس ملک میں طاعون آیا ہے۔ اب اے ناظرین خود سوچ لو کہ اس قدر متفرق اقوال اور دعاوی سے کس قول کو دُنیا کے آگے صریح اور بدیہی طور پر فروغ ہو سکتا ہے۔ یہ تمام اعتقادی امور ہیں اور اِس نازک وقت میں جب تک کہ دنیا اِن عقائد کا فیصلہ کرے خود دنیا کا فیصلہ ہو جائے گا۔ اس لئے